کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 459
فرمائے، کونسا خشوع حاصل ہوگا جس کے موبائل کی گھنٹی بار بار اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کی لذت میں کباب میں ہڈی کی طرح بن کر آئے؟ اس طرح وہ خود تو مشغول ہو جاتا ہے لیکن دوسرے لوگوں کو بھی تکلیف پہنچاتا ہے۔ یہ لوگ جو مسجد میں اپنے ساتھ یہ آلات بند کیے بغیر لے کر آتے ہیں کیا یہ نماز پڑھنے کے لیے آتے ہیں یا کسی اور مقصد کے لیے؟ ایسے لوگوں کو اپنی نمازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو تکلیف دینے اور اللہ کے گھروں کی بے حرمتی کرنے سے بچنا چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں بھلائی کی رغبت دیکھتے ہیں تو اس کو اس کی توفیق دیتے ہیں اور اس کے لیے اس کی مدد کرتے ہیں۔ مسنون نماز ہر پریشانی کا علاج: اگر آج مسلمان اپنی نمازوں کو اس طرح ادا کریں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طریقہ جاری کیا تھا تو اﷲ کی توفیق سے یہ ان کے حالات کی اصلاح، ان کے معاشروں کی سلامتی، دشمنوں پر فتح یابی اور دنیا و آخرت کی مرادیں پانے کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ ابتدا ہوتی۔ اسلامی شعائر پر عمل کرنا ہی اللہ کے حکم سے مضبوط ہتھیار اور ہر پریشانی سے بچانے والی ڈھال ہے کیونکہ اس کا سبب ایمان کی قوت، یقین کی سچائی اور آخرت کا شوق ہے۔ نماز محض ادا نہ کریں بلکہ اسے قائم کریں: اس لیے اے بندگانِ الٰہی! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اپنی نمازیں قائم کرنے کے لیے لالچ کی حد تک کوشش کرو، یہ تمھارے لیے زمین میں نور اور آسمان میں ذخیرہ ہے۔ قرآن کریم کے اسلوب پر غور کرنے والا اس نتیجے کو پہنچے گا کہ جہاں بھی نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کا معنی محض ادا کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہے کیونکہ اقامت کا معنی ہے اہتمام کے ساتھ مکمل کرنا۔ اس سلسلے میں نمازیوں پر جہاں ان کی اپنی ذات کے متعلق ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نماز پر ہمیشگی کریں اور اسے توجہ اور اہتمام کے ساتھ ادا کریں اسی طرح دوسروں کے متعلق بھی یعنی ان کے جاننے والوں، رشتے داروں، بیٹوں اور پڑوسیوں کے متعلق بھی ان پر اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ انھیں اس اہم موضوع کے متعلق پند و نصیحت کریں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: