کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 440
نے اس سے پناہ مانگی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے: (( وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْحَوَرِ بَعْدَ الْکَوَرِ )) [1] ’’اے اللہ! میں اضافے کے بعد کمی سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا } [النحل: ۹۲] ’’اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ ڈالا۔‘‘ اس کی تاکید اس مشہور دعائے نبوی سے بھی ہوتی ہے: (( وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِيْ فِيْ کُلِّ خَیْرٍ )) [2] ’’یہ زندگی میرے لیے بھلائی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔‘‘ نیکی اور اچھائی صرف رمضان کے مہینے تک محدود نہیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو تسلیم کرنے کی صورتیں ہیں: { وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ} [الحجر: ۹۹] ’’موت تک اپنے رب کی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی انتہا۔۔۔ موت: لہٰذا جب تک موت نہ آجائے تب تک عبادت کی انتہا ہے نہ اللہ کے قرب کے حصول کی آخری حد۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان میں کمزوری ہے اور وہ اس کمزوری سے چھٹکارہ نہیں پاسکتا، اور یہ مطلوب بھی نہیں کہ انسان اپنی بشریت سے تجاوز کر جائیں۔ صرف یہی مطلوب ہے کہ وہ اس مضبوط کڑے کو تھامے رکھیں جو انھیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسلک رکھے، اور ان کی زندگی کے تمام ثقافتی، خاندانی اور صحافتی گوشوں پر دین داری غالب رہے، ناقابل تغیر مبادیات کے ساتھ ان کا رشتہ مضبوط رہے، اور انسانی نفس مختلف موسموں اور ہنگامی مواقع کے دھوکے میں نہ آئے۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۵۲۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۸۲) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۰۲) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۸۱۵)