کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 438
ہلاک کرنے والی چیخ اور قوم ثمود کو برباد کرنے والی آندھی کے بارے میں، اور قوم لوط پر ہونے والی پتھروں کی بارش کے متعلق کچھ نہیں سنا؟ کیا انھوں نے سورت الحاقہ، زلزال، القارعۃ اور تکویر کی تلاوت نہیں کی؟ سبحان اللہ! دل اس قدر زنگ آلود ہو چکے ہیں؟ {اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا} [النساء: ۸۲] ’’تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر وہ غیر اﷲ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘ قرآن ہم پر اثر کیوں نہیں کرتا؟ کیا ہمارے دل کسی سخت چٹان سے بنے ہوئے ہیں؟ وہ دل کہاں ہیں جو ڈرتے ہیں؟ وہ آنکھیں کہاں ہیں جن سے آنسو بہتے ہیں؟ اﷲ کی قسم! یہ کتنے زیادہ دل ہیں جو غفلت کی چراگاہ میں چر رہے ہیں اور نیکی اور تقوے سے خالی ہو کر ویران پڑے ہیں؟ نہ کوئی نوجوان بچپنے سے باز آتا ہے نہ کوئی بوڑھا ہی ہوش کے ناخن لیتا ہے بلکہ خلوت اور جلوت میں ہم نے اپنے رب کی کتاب کے متعلق لاپرواہی سے کام لیا ہے۔ ہمارے درمیان اور نیکی کے درمیان اتنی دوری ہو چکی ہے جتنی صفا اور مروہ کے درمیان بھی نہیں۔ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔ { اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا ، اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ وَاَمْلٰی لَھُمْ}[محمد: ۲۴، ۲۵] ’’تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟ بے شک وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر پھر گئے، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح ہوچکا، شیطان نے ان کے لیے (ان کا عمل) مزین کر دیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی۔‘‘ سستی سے بچیں: سامعین محترم! اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے۔ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ جو سستی اور کاہلی کے قریب رہتا ہے وہ محنت اور مشقت سے دور بھاگتا ہے، اور جو آرام طلبی اور تفریح طبع کا دلدادہ ہو جائے وہ اپنے نفس کا شکار ہو جاتا ہے اور جو نفس کا شکار ہو جائے وہ شخص ناکارہ ہو جاتا ہے۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۰۸)