کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 432
ہے۔ جو ہر علاقے کے غلے اور کھانے والی اشیا، جیسے: گندم، چاول، جَو وغیرہ میں سے ایک صاع نکالنا ہے، لہٰذا ہر چھوٹے بڑے اور مذکر و مونث کی طرف سے اسے نکالنا واجب ہے، جس طرح حضرت ابو سعید اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے۔[1] اس بچے کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالنا مستحب ہے جو ابھی شکم مادر میںہو۔ افضل یہ ہے کہ اسے نماز فجر اور نماز عید کے درمیانی وقفے میں نکال دیا جائے تاہم عید سے ایک دو دن پہلے نکالنے میں بھی ان شاء اﷲ کوئی حرج نہیں۔ سنت یہی ہے کہ آدمی غلے سے نکالے، جس طرح حدیث کے الفاظ ہیں اور سلف صالحین کا عمل۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ رمضان کے آخر میں ہر علاقے میں یہ حکم جاری کرتے کہ رمضان کا اختتام استغفار کے ساتھ اور صدقہ فطر نکال کر کیا جائے۔ لہٰذا متلاشیان رحمت الٰہی! صدقہ فطر راضی خوشی ادا کرو، تمھارے آقا نے تمھیں بہت کچھ عطا کیا ہے لیکن ایک قلیل مقدار کا مطالبہ کیا ہے۔ اعمال کو صرف رمضان تک محدود نہ رکھو: بھائیو! اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے باقی عمر استمرار اور ثابت قدمی کے ساتھ نیک اعمال کرتے کرتے گزار دینا، بھلائی کے کام جاری رکھنا تاکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکو۔ تمھارے پاس اتنے نیک اعمال ہیں کہ وہ مستقل موسموں میں شمار ہوتے ہیں، جیسے: نماز پنجگانہ، نفلی نماز، نفلی روزے، صدقہ، اسی طرح تمام نیک اعمال۔ یہ بھی یاد رکھو کہ اگر ماہ رمضان گزر جائے تو مومن کا عمل تو ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ یہ موت تک جاری رہتا ہے۔ نیکی قبول ہونے کی یہ علامت ہے کہ آدمی نیکی کے بعد نیکی کرتا رہے، تمام مہینوں کا مالک تو ایک ہی ہے اور وہ تمھارے اعمال کو نہ صرف دیکھ رہا ہے بلکہ ان کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو صرف رمضان میں اﷲ تعالیٰ کو پہچانتے ہیں؟ تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ یہاں لوگ امن کی فضا میں روزے رکھ رہے ہیں اور عمرہ کر رہے ہیں، ہر طرح کی خدمات مہیا ہیں، اور تمام تر سہولیات مہیا کرنے کے لیے قابل قدر کوششیں کی جا رہی ہیں۔