کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 431
یہ ہے وہ امید اورہمیں صدقِ دل کے ساتھ اس کی بر آری کے لیے عمل کرنا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کے روزے، قیام اور دعائیں قبول فرمائے۔ اپنے فضل و کرم سے ہمیں شرف قبولیت، مغفرت، اور جہنم سے آزادی سے نوازے۔ اس مہینے کی جدائی پر ہماری خاطر داری کرے۔ اسے ہم پر اور ہماری امت پر اس حالت میں ہزاروں سال لوٹاتا رہے کہ امت عزت، نصرت اور اقتدار کی خلعت فاخرہ میں ناز و انداز سے چلتی نظر آئے اور چہار سو اس کی عزت اور ہیبت کا پرچم لہرا رہا ہو۔ رمضان کی رخصتی نیک اعمال کے ساتھ کریں: اﷲ کے بندو! اس مہینے کو نیک عمل کے ساتھ رخصت کرو۔ یہ اﷲ ملک العلام کے حضور تمھارے حق میں گواہ بن کر آئے گا۔ جدائی کے وقت اسے اﷲ حافظ کہتے ہوئے بہترین الفاظ میں سلام و دعا کا تحفہ دو۔ متقین کے دل اس مہینے کے مشتاق اور دلدادہ ہیں اور سوز فراق میں رنجیدہ۔ ایک مومن اس کی جدائی پر آنسو کیوں نہ بہائے جبکہ اسے کوئی خبر نہیں کہ دوبارہ اپنی زندگی میں اس سے مل سکے گا یا نہیں؟ محبت کرنے والوں کے دل اس کی جدائی پر پھٹے جا رہے ہیں اور ان کے آنسو اس کے کوچ کے سوز میں چھم چھم برس رہے ہیں! روزے دار بھائیو! تمھارے آقا نے اس مہینے کے اختتام پر تمھارے لیے بڑے عظیم الشان اعمال رکھے ہیں، جو روزوں میں واقع ہونے والے نقائص اور کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہیں اور اجر و ثواب میں اضافہ۔ لہٰذا اس مہینے کے آخر میں اﷲ تعالیٰ توبہ و استغفار اور شکر کی دعوت دیتے ہیں۔ فرمایا: { وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ}[البقرۃ: ۱۸۵] ’’اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اﷲ کی بڑائی بیان کرو، اس پر جو اس نے تمھیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ صدقہ فطر کی حکمت اور اس کے احکام: اﷲ تعالیٰ نے روزے اور قیام رمضان کی توفیق پر شکریہ ادا کرنے کے لیے، روزے دار سے صادر ہونے والی لغویات اور نافرمانیوں کی طہارت کی خاطر، مسکینوں کے کھانے کے لیے اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اور محبت کے جذبات کو تحریک دینے کی وجہ سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۳۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۸۴)