کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 430
لہٰذا ہم پر حرام ہے کہ کمزوری اور مسکینی کا مظاہرہ کریں اور پیٹ بھر کر ذلت کا جام نوش کریں۔ انتہائی ضروری ہے کہ امت اسلامیہ دیگر امتوں کے درمیان اپنی جگہ بنائے، تاکہ مظلوم بشریت اور حیران و سرگرداں انسانیت حق، عدل و انصاف اور امن و سلامتی کا خواب پورا کر سکے، اور گمراہی، بدبختی، اضطراب اور انارکی کی دلدلوں، گندگیوں اور جوہڑوں میں غرق شدہ اقوام عالم کو باہر نکالا جا سکے۔ دنیا کی قیادت کا حق: اگر تمھارے دشمن مادہ پرستی، گمراہی اور باطل پر ہوتے ہوئے دنیا کی قیادت کی لگام اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں تو تمھیں کیا ہے؟ بلکہ قیادت، سیادت اور لیڈر شپ کے تم سب سے زیادہ حق دار ہو، کیونکہ تمھارے پاس ایمان، حق اور تقویٰ کا شہد سے زیادہ صاف اور شیریں منہج اور لائحہ عمل موجود ہے۔ اسلامی دعوت کا معیار بلند کرنے کے لیے اور امت کو اس فرقے بندی اور فروعی اختلافات سے بچانے کے لیے، جن کا وہ ایک لمبی مدت تک شکار رہی ہے، پھر ان خود ساختہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے، جو امت کی پشت پر شدید ترین حملہ متصور ہوتی ہیں، انتہائی ضروری ہے کہ سٹر ٹیجک تحقیقات کی بنیاد رکھی جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں، اس کے ساتھ ساتھ موجودہ نسل کی تربیت اعتدال اور میانہ روی کے منہج کے مطابق کی جائے۔ زوال کا سبب: تمام اہل اسلام کے لیے یہ جاننا فرض ہے کہ ان کے حالات کی اصلاح، جن کا وہ فوری اور تیر بہدف علاج تلاش کرتے ہیں، اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اس الحاد، عقل پرستی، انحراف اورتبدیلیوں کی موجوں میں پھنسی ہوئی دنیا میں صحیح اسلامی عقیدے کو مضبوطی سے نہیں تھام لیتے۔ اﷲ کی قسم! اﷲ شاہد ہے، میں رب رحمان کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں، اعتقادی و اخلاقی بگاڑ اور اعتقادی مسلمات اور شرعی مناہج سے دست بردار ہوجانے کی وجہ سے آج امتیں شکست خوردہ ہیں، قومیں سرنگوں ہیں اور تہذیبیں زوال پذیر۔ یہ ساری امت کی ذمے داری ہے۔ کیا مسلمانوں کو اپنے عقیدے کی اہمیت کا احساس ہے؟ کیا وہ اس نقطے پر متحد ہوسکتے ہیں جس پر سلف صالحین قائم تھے؟ تاکہ زمین اور اہل زمین کے لیے بھلائی اور اچھائی کا خواب پورا ہوسکے۔