کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 421
اپنے ہم عقیدہ بھائیوں کو بھی یاد رکھیں: اے اہل اسلام! تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و رضا پر ثابت قدم رہیں۔ برادران اسلام! تم اس کرم و رحمت اور ہمدردی کے مہینے کے سائے تلے لطف اندوز ہو رہے ہو، اس حال میں دنیا کے کونے کونے میں بکھرے ہوئے اپنے ہم عقیدہ بھائیوں کو بھی یاد رکھنا، جو بہت بڑی مصیبتوں کا شکار ہیں، مسلسل بڑے بڑے حادثات کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کتنے سالوں سے ایسے وطنوں میں رہائش پذیر ہیں جو ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں، سرکشوں نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے، ان لوگوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، ان کی عزتوں کو پائمال کیا جاتا ہے، ان کو توڑ کر رکھ دیا گیا ہے، انھیں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں، اور وہ ایسی ایسی سزائیں پاتے ہیں کہ اﷲ کی پناہ! { وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ} [البروج: ۸] ’’اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے، ہر تعریف کے لائق ہے۔‘‘ ان تمام حالتوں سے زیادہ کربناک اور خوفناک حالت ہمارے فلسطینی بھائیوں کی ہے۔ ان غاصب یہودیوں اور ان کے ہمنوا ظالم کافروں نے ننگی بدمعاشی کرتے ہوئے تمام دنیا کی نگاہوں کے سامنے اور اس بابرکت مہینے میں ان پر کھلی جارحیت اور وحشیانہ درندگی کا ارتکاب کیا ہے، ان کی عزتیں لوٹی ہیں، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی ہے، خون کے دریا بہائے ہیں اور زمین کو ظلم اور فساد کا گہوارہ بنا دیا ہے، نہ انھیں عالمی معاہدوں کا کچھ خیال ہے نہ انسانی رواجوں کا کچھ پاس۔ { لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ } [التوبۃ: ۱۰] ’’وہ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔‘‘ کچھ ہمارے بھائی ایسے بھی ہیں جو دنیا کے مختلف کونوں میں بڑی تنگدستی کی زندگی گزار رہے ہیں اور انواع و اقسام کی تکلیفوں سے دوچار ہیں، مصیبتوں نے ان کے ہاتھ باندھ دیے ہیں اور وہ مسلسل حادثاتِ زمانہ کا شکار ہیں، یہاں تک کہ وہ زندگی کے بوجھوں تلے دبے جا رہے ہیں، تنگدستی اور عسرت کی بھٹی میں جھلس رہے ہیں، بھوک، افلاس اور بیماری سے ہلاکت کے منہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔