کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 420
مہربانیاں اور عنایات سمیٹو۔ شائد آدمی اﷲ تعالیٰ کی کسی ایک عنایت کو پالے تواس کے سبب مقربین کے درجے اور اولیاء اﷲ کی صفوں میں کھڑا ہوجائے جن پر کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم۔ چنانچہ گناہوں اور نافرمانیوں سے بچو، خواہشات اور شہوتوں کے پیچھے مت چلو، لہو و لعب اور بے مقصد کاموں میں وقت ضائع نہ کرو، جو تمھیں اﷲ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے کا سامان اور اس کے غصے کو دعوت دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پھر بعد میں جب تمھاری تمھارے رب کے ساتھ ملاقات ہو تو تم اس وقت شرمندگی سے سر جھکاتے پھرو، لیکن تب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت! گریہ زاری جہنم کی آگ ٹھنڈی کر دیتی ہے: اے اہل ایمان! اپنے رب کے حضور گڑ گڑاؤ، عجز و انکسار کا اظہار کرو، گناہوں، غلطیوں اور خطاؤں کو معاف کروانے کے لیے اور جہنم سے آزادی پانے کے لیے اس کے سامنے آہ و زاری کرو: { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ} [آل عمران: ۱۸۵] ’’پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ نیز فرمایا: { اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ، لِیُوَفِّیَھُمْ اُجُوْرَھُمْ وَ یَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ} [الفاطر: ۲۹، ۳۰] ’’بے شک جو لوگ اﷲ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو کبھی برباد نہ ہوگی۔ تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے انھیں زیادہ بھی دے، بلاشبہ وہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔‘‘