کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 419
عَلِیْمٌ ، اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَآ اَذًی لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ} [البقرۃ: ۲۶۱، ۲۶۲] ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اﷲ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اﷲ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اﷲ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنے مال اﷲ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر انھوں نے جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ کسی طرح کا احسان جتلانا لگاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچانا، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ریا کاری سے بچیں: لہٰذا اس فریضے اور دیگر فرائض کی پابندی کریں، ہر نیک عمل میں نیت اور ارادہ اﷲ تعالیٰ کے لیے خالص کریں، کیونکہ نیک عمل میں اگر ریا کاری کا شائبہ اور ملاوٹ ہوجائے تو یہ اسے ضائع کر دینے کا سبب بن جاتا ہے اور یہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: (( أنا أغنی الشرکاء عن الشرک، من عمل عملا أشرک فیہ معي غیري ترکتہ وشرکہ )) [1] ’’میں شریکوں کے شرک سے بے پرواہ ہوں، جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا تو میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ نیکی میں سبقت کرو اور برائی سے بچو: لہٰذا اے اﷲ کے بندو! اس سے ڈر جاؤ۔ اس مہینے سے جو دن باقی رہتے ہیں، انھیں موقع غنیمت جانو، اور اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور خوشنودی کے حصول کے لیے آگے بڑھو، اس کی