کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 408
’’اﷲ تعالی اس آدمی پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھا اور نماز پڑھی، اس نے اپنی اہلیہ کو بھی اٹھایا اور اس نے بھی نماز ادا کی اور اگر اس نے اٹھنے میں پس و پیش کیا تو اس کے چہرے پر پانی کا چھینٹا مارا۔ اور اللہ تعالی اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو بیدار ہوئی اور اس نے نماز پڑھی، پھر اس نے اپنے شوہر کو بھی بیدار کیا، اگر اس نے اٹھنے سے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی کا چھینٹا مارا۔‘‘ ارشاد الٰہی ہے: { قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّھِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ ، اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ، اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ } [آل عمران: ۱۴ تا ۱۷] ’’( اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ دیجیے: کیا میں تمھیں اس (متاع دنیا) سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں ؟ تقوی والوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان کے لیے پاکیزہ بیویاں اور اﷲ تعالی کی رضا ہے، اور اﷲ تعالی سب بندوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لا چکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے، جو صبر کرنے، سچ بولنے، فرمانبر داری کرنے، اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے، اور اوقات سحرگاہی میں بخشش مانگنے والے ہیں۔‘‘ قیام اللیل کے لیے معاون اسباب: قیام اللیل کے لیے معاون و مددگار اسباب و ذرائع میں سے یہ ہیں کہ اﷲ تعالی کی طرف رجوع کریں، اس سے صدق دل سے سچا تعلق استوار کریں، اﷲ سبحانہ و تعالیٰ سے حسن ظن رکھیں، اس کی نعمتوں کی بھر پور امید رکھیں اور گناہوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے رہیں کیونکہ گناہ دلوں کو سخت [1] الزھد للإمام أحمد (ص : 373) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۴۵) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۳۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۵۹) [4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۳۰۹) اس حدیث کو امام ابن حبان، حاکم اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔