کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 405
کر لی اور نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور روزے میں مشغول رہے، یہ ہیں اصل قومِ مسلم کی عملی ہمتیں۔ ان آیاتِ عظیمہ کے مفاہیم و معانی پر غور کریں۔ ارشادِ الٰہی ہے: { وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلًا طَوِیْلًا ، اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا} [الدھر: ۲۶، ۲۷] ’’اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور رات کا طویل عرصہ اس کی تسبیح کیا کر، بے شک یہ ( مادی ) لوگ جلدی ملنے والی ( دنیا ) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن ( قیامت کی ہولناکیوں ) کو چھوڑ ے ( بھلائے ) بیٹھے ہیں۔‘‘ رات باہمت عبادت گزاروں اور ذکر و دعا میں مشغول رہنے والوں کے لیے ایک وسیع میدان ہے، وہ سفرِزندگی کے لیے بہترین زادِ راہ ہے، البتہ جو لوگ دنیاوی عیش و آرام کو چاہنے والے ہیں وہ کم ہمت اور معمولی مطالبات والے لوگ ہیں، وہ اسی معمولی دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت میں غرق ہو جاتے ہیں اور روزِ محشر جیسے بھاری شدید دن کی شدّتوں اور ہولناکیوں کو بھول جاتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں بعض سلف صالحین نے کہا ہے: ’’وہ شخص سخت بُرے حساب سے نجات کی امید کیسے لگا سکتا ہے جبکہ وہ رات بھر سویا رہتا ہے اور دن بھر لہو و لعب اور کھیل تماشے میں گزار دیتا ہے؟‘‘ دورِ حاضر کے اکثر لوگوں کا لہو و لعب صرف دن نہیں بلکہ رات دن دونوں پر پھیل چکا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں رسوائی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ برادران و احباب! قیام اللیل سے دل نرم ہو جاتے ہیں۔ برادران و احباب! لوگ کمزوری کے نتیجے میں قیام اللیل کی ہمت نہیں پاتے، دل سخت ہو جاتے ہیں، آنسو خشک ہو جاتے ہیں اور غفلت چھا جاتی ہے۔ ایک آدمی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر ہوا اور پتہ چلا کہ وہ دن چڑھنے کے باوجود ابھی سویا ہوا ہے (نماز کے لیے نہیں اٹھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( ذاک رجل بال الشیطان في أذنہ )) [1] [1] سنن البیھقي (۱۰/ ۱۹۴) صحیح ابن حبان (۱/ ۲۷۳) اس حدیث کو امام ابن حبان اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔