کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 401
(( من قام رمضان إیمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ )) [1] ’’جس نے ماہ رمضان کی راتوں میں قیام کیا اس حال میں کہ وہ اﷲ تعالی پر ایمان رکھتا ہو اور اس کی رضا و ثواب کا طالب ہو، تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخشے گئے۔‘‘ نیز فرمایا: (( ینزل ربنا إلی السماء الدنیا کل لیلۃ حین یبقی ثلث اللیل فیقول: أنا الملک، من الذي یدعوني فأستجیب لہ، من الذي یسألني فأعطیہ، من الذي یستغفرني فأغفرلہ )) [2] ’’ہمارا رب ہر رات کے آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں ۔ کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے کچھ مانگے اور میں اسے عطا کرو ں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اسے بخشوں؟‘‘ حضرت عامر بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( أقرب ما یکون الرب من العبد في جوف اللیل الآخر، فإن استطعت أن تکون ممن یذکر اللّٰه في تلک الساعۃ فکن )) [3] ’’اﷲ اپنے بندے کے قریب ترین اس وقت ہوتا ہے جب رات کا آخری پہر ہو، اگر اس وقت اﷲ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ۔‘‘ بلکہ ایک حدیث میں ہے: (( إن في اللیل ساعۃ لا یوافقھا عبد مسلم یسأل اللّٰه شیئا إلا أعطاہ اللّٰه إیاہ، وذلک کل لیلۃ )) [4] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۴۹) اس حدیث کو امام ابن خزیمہ، حاکم اور ذہبی نے صحیح اور علامہ ناصر الدین البانی نے حسن کہا ہے۔ [2] التہجد لابن أبي الدنیا (ص: ۲۸) مختصر قیام اللیل للمروزي (ص: ۵۰) [3] تفسیر القرطبي (۱۵/ ۲۳۹)