کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 400
(( الصلاۃ خیر موضوع، فمن استطاع أن یستکثر منھا فلیستکثر )) [1] ’’ نماز بہترین عمل ہے ۔ جو اس سے جتنا حظِ وافر پانا چاہے پالے۔‘‘ نمازِ تہجّد: اﷲ کے بندو! اوقاتِ سَحر میں نماز تہجد اور صلوۃ اللیل آتی ہے تاکہ اس کے ذریعے بندے کا اپنے اعلی و ارفع خالق و مالک سے تعلقِ عبودیت و بندگی خوبصورت شکل میں کھل کر سامنے آ جا ئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی صحیح سند والی ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( أفضل الصلاۃ بعد الصلاۃ المفروضۃ صلاۃ اللیل )) [2] ’’فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز صلاۃ اللیل (تہجّد) ہے۔‘‘ اور اس بات پر کئی علما نے علمائِ امت کا اجماع و اتفاق نقل کیا ہے۔ اس نماز کے مقام و مرتبہ کے سلسلہ میں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے عظیم مثال اور بہترین نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک یہ نقل کیا گیا ہے: (( کان رسول اللّٰه ﷺ إذا صلی قام حتی تفطر رجلاہ )) [3] ’’آپ رات کو اتنا طویل قیام فرمایا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج کر پھٹ جاتے۔‘‘ خصوصاً ماہِ رمضان میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کا اتنا اہتمام فرماتے جو دوسرے مہینوں سے نسبتاً بہت ہی زیادہ ہو تا تھا۔ حدیث میں ہے: ’’جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ آجاتا تو آپ اپنی راتوں کو زندہ کرتے (شب زندہ داری کرتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہو جاتے۔‘‘[4] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۴۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۸) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۷۹) اس حدیث کو امام ترمذی، ابن خزیمہ، حاکم، ذہبی اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔ [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۷)