کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 399
برادرانِ اسلام! انسان بڑا کمزور ہے، اﷲ تعالی سے رابطے کے سوا اس کی کوئی طاقت و قوت نہیں، انسان کا مقابلہ شرّ کی قوتوں سے ہو جاتا ہے اور اس کے لیے دنیاوی شہوات و لذات اور من پسند چیزوں کی کشش کا دفعیہ و مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔ شر کی ان سرکش موجوں میں اور خطرناک لہروں سے نجات کے لیے انسان کو اﷲ تعالی سے رشتہ استوار کرنے اور اس کی مدد و پناہ لینے کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ اسلام میں نماز کا مقام: مسلمانو! ان دنوں مسلمان جن عزت و شرف والی گھڑیوں اور ایام سے گزر رہے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ اسلام میں اہم عبادت اور اﷲ تعالی سے تعلق استوار کرنے کے سب سے عظیم ذریعے (نماز) کے بارے میں گفتگو کی جائے جو ایک ایسی عبادت ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی انتہائی اہم معاملہ پیش آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً نماز کی طرف لپکتے،[1]اور جب کبھی آپ پر راستے تنگ کر دیے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی یہی عبادت نماز ہی بنتی۔ نماز وہ خزانہ ہے جو کبھی فنا ہونے والا نہیں، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کارو بارِ حیات میں شدت و تنگی محسوس فرماتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ اے بلال! نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۔ [2] نماز اسلام کا ستون ہے اور اﷲ تعالی کے حکم سے تائب ہونے اور خوف کھانے والے کا ملجا وماویٰ۔ عبادت گزاروں کا نور اور اﷲ تعالی کے ساتھ تجارت کرنے والوں کا مال و سامان ِ تجارت ہے، اس کے انوار سے دلوں کا زنگ زائل ہوتا ہے، اس کے اذکار سے غفلتوں کے پردے دور ہوتے ہیں اور اس کے اسرار و رموز اور آثار سے چہروں کو نور ملتاہے، جو جتنا قوی ایمان والا ہوگا وہ اتنا ہی اچھی طرح سے نماز ادا کرنے والا، طویل قیام و قنوت کرنے والا اور عظیم و پختہ یقین والا ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: [1] المعجم الأوسط (۱/ ۸۴) علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے مجموع طرق کی بنا پر اس حدیث کو حسن لغیرہ کہا ہے۔ [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۶۳) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۳۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۲۰) [4] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۰۲۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۷۴)