کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 396
دوسرا خطبہ فضائل قیام اللیل؛ تہجد و تراویح امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: میں اپنے آپ کو اور آپ لوگوں کو اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کی نصیحت و تلقین کرتا ہوں۔ اللہ تعالی آپ لوگوں پر رحم کرے، اﷲ تعالی سے ڈرتے رہو اور بکثرت ذکر و شکر اور حسن عبادت کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو، مخلوق پر اس کی نعمتوں کا تذکرہ کر کے اس کی محبت حاصل کر و، کشائش و خوشحالی میں اسے پہچانو اور یاد رکھو، تنگی و بد حالی میں وہ تمھیں پہچانے گا، جو اﷲ تعالی سے ڈرے گا وہ کل روز محشر کی ہولناکیوں سے محفوظ رہے گا، نفع کمانے والا وہ ہے جس نے اس فانی دنیا کے عوض سدا رہنے والی آخری زندگی کا سودا کر لیا اور نقصان اٹھانے والا وہ ہے جس کے کان شہوت رانیوں نے بند کر دیے اور جس نے اس دار فانی کو عالمِ عقبیٰ پر ترجیح دی۔ مادی ترقی مگر انتہائی تباہی کا دور: مسلمانو! تاریخ کا مطالعہ کرنے اور احوالِ عالم پر نظر رکھنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور تاریخِ انسانی کا سب سے زیاد سفّاک اور تباہ کن دور ہے، اور عجیب اتفاق ہے کہ یہی دور کلچر، سائنس، تعلیم، ایجادات اور انکشافات کے لحاظ سے بھی تمام ادوار سے ترقی یافتہ دور ہے، اس سے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ آج دنیا مادی لحاظ سے ترقی کی اعلی منازل تک پہنچ چکی ہے، ذرائع اتصالات، مواصلات، آلات، ٹیکنا لوجی، صحت، تعلیم اور اسباب ِ معیشت میں بڑی نفع آور اور مفید چیزیں ایجاد ہوئی ہیں، لیکن ان تمام ترقیوں کے ساتھ ساتھ ہی یہ دور قسوت و سنگدلی اور وحشت و بربریت میں بھی کسی دور سے کم نہیں رہا۔ کس قدر عجیب و غریب بات ہے کہ موجود علوم و معرفت ہی تباہی و بربادی کا سبب بن جائیں، لیکن کوئی مسلمان جب اﷲ تعالی کے مندرجہ ذیل ارشاد کی طرف رجوع کرے تو اس کی حیرت و استعجاب سب ختم ہو جاتے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے: { یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ }[الروم: ۷]