کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 387
ارشاد الٰہی ہے: { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا} [النساء: ۸۲] ’’کیا وہ قرآن میں غور و تدبّر نہیں کرتے، اگر یہ غیر اﷲ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘ قرآن میں عدمِ تدبّر و تفکر کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بکثرت مسلمان اپنے نفسوں اور مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے فطری قوانین اور قدرتوں کا انکشاف کرنے کی جستجو نہیں کرتے، اس کائنات کے حسنِ تسخیر پر غور نہیں کرتے اور غلط مفاہیم اور مخلوط و مشکوک تاویلات کی تقدیس سے آزادی نہیں پاتے، جو حبّ دنیا اور نفرتِ موت کے باغیانہ شعور والوں کی طرف سے لوگوں میں در آئے ہیں، حالانکہ ارشاد الٰہی ہے: { وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ} [القصص: ۶۰] ’’ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے، کیا تمھیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چیز کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ یہ تب ہو گا جب علم چلا جائے گا۔ ( صحابی کہتے ہیں:) ہم نے عرض کیا: علم کیسے چلا جائے گا؟ حالانکہ ہم نے قرآن کریم پڑھا، ہم اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راوی حدیث سے مخاطب ہو کر فرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے! میں تو تجھے ا ہل مدینہ کے سمجھدار لوگوں میں سے شمار کرتا تھا (یعنی تو یہ بات نہیں سمجھ سکا ) کیا یہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھو ں میں تورات و انجیل نہیں ہے؟ مگر وہ اس میں مذکور اشیا سے ذرا بھی استفادہ نہیں کرتے۔[1] مسلمان اس وقت دہشت زدہ ہو جاتا ہے جب وہ بکثرت مسلمانوں کے اپنے رب کی کتاب کے ساتھ ایسے کمزور تعلق کو دیکھتا ہے، جبکہ انھیں ہر طرف سے اندھیرے گھیرے ہوئے ہیں، ہر طر ف [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۳۱۴) اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن اور امام حاکم، ذہبی اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔