کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 375
محمدوں (امام محمد بن عبد الوہاب اور امام محمد بن سعود رحمہم اللہ ) کے مابین معاہدہ ہوا، جس سے اس تاریخی تحریک کا نیا باب شروع ہوا جو زمان و مکان کی پابندیوں سے بے نیاز ہو کر پھیلتی اور پھولتی چلی جارہی ہے، اور آج تک مسلسل کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے جا رہی ہے۔ دعوت و حکومت کے اتحاد کی برکات: اس دعوت و حکومت کے اتحاد کا مقصد وحید شرعی منہج کی استقامت اور اﷲتعالی کے دین کا غلبہ، عقیدہ توحید، علم شریعت اور حکومت کے مشترکہ حوالے سے ہو، اور توحید جس میں توحید کی تمام اقسام، توحید عبودیت و الوہیت اور اسماء و صفات شامل ہوں۔ اﷲتعالی کے سوا پرستش کی جانے والی تمام چیزوں کا کفر و انکار ہو، نواقض اسلام سے گریز ہو، خصوصا اﷲتعالی کے لیے اخلاص ہو اور شرک نہ ہو، اس کے وسائل اور ذرائع سے مکمل بُعد و دوری ہو۔ اور علم شریعت ایسا ہو جو دین اور زندگی کے تمام شعبوں خصوصاً چار چیزوں پر مشتمل ہو: اﷲتعالی کے دین کا علم، اس پر عمل، اس کی طرف دعوت اور اس کی طرف دعوت و تبلیغ کی راہ میں آنے والی اذیتوں پر صبر و ہمت کا دامن تھامنے کی تلقین پر حاوی ہو۔ جبکہ حکومت سے مراد وہ منہج حکمرانی ہے جس میں لوگوں کو شریعتِ اسلامیہ کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ کیا جائے، علم عام کیا جائے، دعوت و ارشاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مقام بلند کیا جائے، جرم و سزا کے قوانین میں شرعی حدود کا نفاذ ہو، اور تمام شرعی اور دینی اداروں کی نگرانی ہو۔ غرض حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، جس کے نتیجہ میں عوام میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوا۔ مملکت کے تمام علاقوں میں امن و امان کا دور دور ہ ہو گیا۔ اسلامی اخوت نے جنم لیا اور دینی شعائر پر عمل شروع ہو ا، اسلام اس حکومت کا شعار ہے جو اس کے جھنڈے ہی سے ظاہر ہے اور اس کا نظام شریعت ہے، جو ارباب حکومت کی زندگی سے واضح ہے، اس حکومت نے دعوت و اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مفید مصنوعات اور ترقی یافتہ فائدہ مند اشیا سے استفادہ کیا، اس معاشرے کی واضح علامت اس کی دینداری ہے، اور یہ ان کے فرائضِ اسلام و شعائر اسلام کی حفاظت، ان کے اعلان، صالحین کے وجود اور ان سے محبت اور اہل فسق و فجور سے نفرت جیسے امور سے بھی ظاہر ہے۔ وہ لوگ فساد والحاد کے خطرات کا گہرا شعور رکھتے ہیں، وہ شرعی ثقافت و علوم میں گہری دلچسپی