کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 368
دی ہے جو تخریب کاری اور افواہوں کی ترویج و اشاعت کا سدّ باب کر سکے، تاکہ وہ کہیں اہلِ علم وصلاح کی غفلت و سستی کے نتیجہ میں افرادِ امت پر اثر انداز نہ ہو جائیں، اسلامی معاشرے کی لڑی کے چمکدار موتی بکھر نہ جائیں، اس کی مضبوط عمارت کی اینٹیں اِدھر اُدھر نہ جا پڑیں، کہیں پھر وہ ان طوفانوں، فتنوں اور مصائب کی متلاطم موجوں کے مقابلے کے وقت کمزور نہ پڑ جائیں، اور یہ کشتی کہیں ڈوب نہ جائے، یا اپنے صحیح راستے سے ہٹ نہ جائے، یا پھر کہیں اس میں دراڑیں اور سوراخ نہ پڑ جائیں، اور وہ کہیں سلامتی کے کنارے اور ساحلِ نجات سے دور نہ جا نکلے۔ حفاظتی تدابیر: افواہوں کی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی اقدامات اور تدابیر ہیں: ۱۔ جن میں سے پہلا اقدام یا تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کی خوفِ الٰہی کے ذریعے تربیتِ نفس کی جائے اور انھیں مختلف معاملات کے بارے میں تحقیق و تفتیش اور بحث و تمحیص کا عادی بنایا جائے۔ کسی مسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ہر کسی کے پیچھے تابع مہمل بن کر لگ جائے بلکہ اسے چاہیے کہ تحقیق کرے، واقعی دلائل و براہین اور عملی شواہد کا مطالبہ کرے، اس طرح وہ مختلف بلا دلیل دعوے کرنے والوں کا راستہ بند کر سکیں گے جو پس پردہ کام کرتے اور تمام جھوٹی وسچی باتوں کو چباتے رہتے ہیں، اور ہر غیرت مند، احتساب کرنے والے اور مصلح شخص کے خلاف ہرزہ سرائی اور زبان درازی کرتے رہتے ہیں۔ ۲۔ عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان خود غرض نشریاتی یلغاروں اور حملوں اوربے دست و پا افواہوں پر نکیر کی جائے جو ہمارے عقیدہ و شریعت، ہمارے اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ مسلمانوں کے لیے دینِ اسلام کی طرف اپنی نسبت کرنا ایک شرف ہے۔ اسلامی ممالک کے علمائِ اسلام پر طعن و تشنیع سے ان کی ذات و شخصیات ہر گز مقصود نہیں ہوتیں بلکہ ان کا عقیدہ و منہج مراد ہوتا ہے۔ ۳۔ حرمین شریفین والے ملک کو اﷲ معزز و مکرم اور قائم و دائم اوراس کے امن و ایمان کو محفوظ رکھے، یہ ملک اپنے اصولوں کا کبھی سودا نہیں کرے گا اور نہ اپنے قواعد و ثوابت کو ترک کرے گا، نہ یہ اپنے عقیدہ و مواقف سے سر مو دست بردار ہو گا اور نہ ہم اپنی دینی