کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 365
ان افواہوں کے برے اثرات صرف عوام ہی پر نہیں بلکہ دنیا میں قانون ساز اداروں اور قراردادیں اور احکام جاری کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں پر بھی مترتب ہوتے ہیں، انھی کے ذریعے دشمنوں نے امت کو اس کے حقیقی مسائل و مشکلات سے ہٹا کر ان کی توجہ دوسری طرف لگا دی ہے، مسلمانوں کی وحدت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے اور اس میں تفریق و اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔ افواہوں کی منشیات: اے امتِ اسلامیہ! یہ افواہیں معاشرے کے امن و امان اور سلامتی کے خلاف ایک جرم ہیں اور ان کو پھیلانے والا اپنے دین، معاشرے اور امت کا مجرم ہے، وہ امت میں قلق و اضطراب اور بد امنی پھیلانے کا بھی ارتکاب کرتا ہے اور کسی حد تک ایسے لوگ منشیات کا کاروبار کرنے والوں سے بھی بد ترین ہوتے ہیں کیونکہ ان دونوں کا اصل ٹارگٹ یا نشانہ انسان ہی ہوتے ہیں، لیکن معنوی و داخلی نشانہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ کا منفی پہلو: آپ کو یہ جان کر انتہائی افسوس ہو گا کہ بعض لوگ خود غرض لوگوں کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو یوں قبول کرتے ہیں جیسے کہ وہ مسلمہ حقائق ہوں، ان لوگوں میں سے بعض طویل گھڑیاں انٹر نیٹ پر بیٹھے اپنے کانوں اور آنکھوں کو ایسی باطل افواہوں سے لت پت کرتے رہتے ہیں کہ جنھیں ایک مومن پڑھ سکتا ہے نہ اس کا دل انہیں قبول کر سکتا ہے چہ جائیکہ انھیں وہ آگے بیان بھی کرے۔ وہ کیا جانیں کہ یہ افواہیں پھیلانے والے لوگ بزدل، اندھیرے کے الّو اور دشمنِ دین یہود ی لابی کے آلہ کار ہیں جو عالمی سطح پر مسلمانوں کے معاشروں اور امت کے امن و امان کے خلاف کام کر رہی ہے۔ انٹر نیٹ کی گوناں گوں سائیٹس کو دیکھتے رہنے والے کے دین و دنیا اور آخرت کے برباد ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور اس بات کا اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے سامنے حق و باطل کہیں با ہم گڈ مڈ نہ ہو جائیں اور وہ کہیں جادۂ حق سے منحرف نہ ہو جائے۔ والعیاذ باﷲ اے اہلِ اسلام! کیا ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ ہم اپنے اسلامی اصولوں میں سے کسی سے بھی دست بردار ہوں یا ہمارے ایمان و یقین میں سر مو بھی جنبش آئے اور ہم اپنے علما و فضلا میں سے کسی کے بارے میں محض کسی افواہ کے نتیجے میں کوئی غلط نظریہ بنا لیں؟ ہماری عقل و فکر کہاں ہے؟ بلکہ