کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 361
کو اذیت نہ پہنچا لیں اور کسی جگہ فساد و بگاڑ نہ پیدا کر لیں تب تک انھیں چین نہیں آتا، وہ فتنے باز، فسادی، زمین میں بگاڑ کے لیے کوشاں رہتے ہیں، لوگوں اور ملکوں میں فتنے برپا کر کے وہ سکون محسوس کرتے ہیں، ایسے لوگ معاشرے کے زہریلے عضو کا کام کرتے ہیں، وہ لگائی بجھائی کے ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے جنگل میں آگ کی طرح اپنا زہر پھیلا دیتے ہیں، گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، زہریلے سانپ کی طرح اپنا زہر پھینکتے ہیں، کردار کے شرارتی اور ہاتھوں، آنکھوں بلکہ ہر ہر عضو کے اشاروںسے ہر طرف آگ لگائے چلے جاتے ہیں۔ تشویشناک خبریں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور الٹی سیدھی ہانکتے رہنے سے نہیں تھکتے، شرارتی زبان والوں اور بکے ہوئے قلموں والے، خبیث باطن اور بدنیت لوگوں کی پھیلائی ہوئی افواہوں کا شکار کئی بڑے بڑے لوگ ہوجاتے ہیں اور انکے سامنے مات کھا جاتے ہیں، امتِ اسلامیہ کے ڈھانچے سے جو ہر وقت خون رِستا رہتا ہے تو اس کا یہی سبب ہے۔ یہودیوں کا تاریخی گندا کردار: برادرانِ ایمان! آغازِ تاریخ ہی سے لیکر افواہوں نے پورے عالم اور خصوصاً بلادِ اسلامیہ کے جسم میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، انھیں خود غرض اور ضعیف الایمان و کمزور دین بلکہ دشمنانِ دین ہوا دیتے ہیں، اعداء دین، خصوصاً انبیاء کی قاتل اور انتہائی بد عہد قوم یہود نے بڑی بڑی افواہیں پھیلائیں، تا کہ کسی بھی طرح دعوتِ اسلامیہ کو نقصان پہنچائیں اور میدانِ دعوت میں کام کرنے والے لوگوں کی شخصیتوں کو مشکوک و غیر معتبر بنا دیں، ان کی ان افواہوں سے اور تو اور خود انبیاء کرام علیہم السلام بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ وہ بھی ان کی افترا پردازیوں کا شکار ہونے سے نہ بچ سکے، ان کی نبوت و رسالت کے خلاف انھوں نے کبھی کھلے عام اور کبھی در پردہ کارستانیاں کیں جنھیں اﷲ تعالیٰ نے محض ایک ہی جملے میں ادا کرتے ہوئے فرمایا ہے: { فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ} [البقرۃ: ۸۷] ’’تم نے بعض (انبیاء) کو تو جھٹلا دیا اور بعض کو قتل بھی کر ڈالا۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ صدیقہ حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف ہرزہ سرائی اور بد زبانی کی اور افواہیں پھیلا کر ان کی کردار کشی کرنے کی کوشش کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف زہر اگلا اور امام