کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 354
کے پسندیدہ اقوال و اعمال اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر خیر و بھلائی اور سعادت و خوشی والی چیزوں کی طرف راہنمائی کرنے اور شقا وت و گمراہی والے کاموں سے باز رکھنے اور نصیحت کرنے میں کبھی سر مو بھی کوتاہی نہیں کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم الشان نصیحتیں اور جلیل القدر ہدایات دی ہیں انھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عمرِ عزیز کے ایام اور حیاتِ فانی کے اوقات کو ایک غنیمت سمجھیں اور ان میں اللہ کی اطاعت و تقرب کے اعمال بجا لائیں، قبل اس کے کہ آدمی کو کسی خاص یا عمومی فتنہ وغیرہ کی وجہ سے ایسے اعمالِ صالحہ کی بجا آوری سے روک دیا جائے، اس وقت وہ اپنی افراط و تفریط پر ندامت کا اظہار کرے گا مگر اس وقت اظہارِ ندامت سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، اس سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی اہم ہدایات و توجیہات میں سے ایک بہت بڑی یہ بات ہے جو سنن ترمذی وغیرہ میں مروی ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: ’’سات چیزوں سے پہلے پہلے نیک اعمال میں جلدی کر لو، کیا تم یہ انتظار کر رہے ہو کہ سب کچھ بھلا دینے والا فقر و تنگدستی آ جائے ؟ یا ایسی تونگری آ جائے جو سرکش کر دیتی ہے؟ یا مضحمل کر دینے والی بیماری گھیر لے؟ یا عاجز کر دینے والا بڑھاپا آن پہنچے؟ یا کام تمام کر دینے والی موت آ دبوچے ؟ یا دجال کا ظہور ہو جائے جو آنے والا بد ترین فتنہ ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے ؟ یا قیامت آ جائے جو سب سے زیادہ خطرناک اور کڑوی ہے؟‘‘[1] اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض اہلِ علم نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں موت یا ان حالات کے آ جانے سے پہلے نیک عمل کر لینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آفتوں کی آمد سے قبل اپنے اوقات کو غنیمت سمجھو۔ ماہِ شعبان کی بدعات سے اجتناب: اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے رہو، اطاعت و فرمانبرداری کو شیوہ بناؤ، فتنوں میں گھر جانے سے پہلے پہلے نیکیاں کر لو اور بدعات و محدثات سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔ اس ماہِ شعبان میں بعض لوگوں نے جو بدعات ایجاد کر رکھی ہیں ان میں سے ایک نصف