کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 352
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ تمھارے سامنے ایسے فتنے رونما ہوں گے جیسے اندھیری رات کا تاریک ٹکڑا ہوتا ہے، (جن میں حق و باطل کی تمیز دشوار ہوجاتی ہے) ان میں ایک آدمی دن کے وقت مومن ہو گا اور رات تک کافر ہو جائے گا، اور رات کو ایک شخص کافر ہو گا اور دن چڑھنے تک مومن ہو جائے گا، ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے شخص سے بہتر ہو گا اور کھڑا شخص چلتے آدمی سے بہتر ہو گا اورچلتا آدمی بھاگنے والے سے بہتر ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں بیٹھے رہنا۔‘‘[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انھی تعلیمات کے پیشِ نظر کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام رحمہم اللہ اور اہلِ بصیرت ائمۂ اسلام نے یہی طرزِ عمل اختیار فرمایا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا یا تھا، اور امت کو بھی یہی طرزِ عمل اپنانے کی ہدایت کی۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے، جو فتنوں کے معاملے میں ساری امت کے سب سے بڑے عالم تھے، فرمایا ہے : ’’فتنوں سے بچ کر رہو، اللہ کی قسم اگر کسی نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا تو وہ اسے یوں ہلاک و برباد کر کے رکھ دیں گے جس طرح کہ تیز سیلاب خس وخاشاک کو بہا لے جاتا ہے، جب ایسے حالات دیکھو تو اپنے گھروں میں ٹکے رہو اور اپنی تلواریں توڑ دو، اپنی کمانوں کے تانت کاٹ دو اور اپنے منہ چھپا لو۔‘‘[2] کبار و اخیار صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا جن میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے فاضل صحابہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جنھوں نے اپنے زمانے میں رونما ہونے والے فتنوں سے اجتناب کیا اور علیحدہ رہے، امت نے ان کے اس طرزِ عمل کو خوب سراہا اور اس طرزِ عمل کو ان کے مناقب میں سے شمار کیا ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔