کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 350
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( تکون فتنۃ لا ینجي منھا إلا دعاء کدعاء الغریق )) [1] ’’فتنے رونما ہوں گے اور ان سے دعا کے سوا کوئی چیز نجات نہ دے سکے گی، اور دعا بھی اس طرح کی جس طرح کوئی ڈوبتا ہوا شخص گڑ گڑا کر دعاء کرتا ہے ( یعنی خلوص کے ساتھ اور بے قرار ہو کر)۔‘‘ اصحابِ اثر و نفوذ کی ذمہ داری: فیصلے صادر کرنے، قانون پاس کرنے اور اثر و نفوذ رکھنے والے لوگوں پر واجب ہے کہ وہ مسلمانوں کو متحد و متفق کرنے کی کوشش کریں، ان کی صف بندی کریں انھیں شرّ و ظلم اور بغاوت و فساد کی قوتوں کے مقابلے میں لا کھڑا کرنے کی بھر پور کوشش کریں، اور فتنے کی آ گ بجھانے کے لیے اور اس کے اسباب و محرکات کا ازالہ کرنے کی حسبِ استطاعت کوشش کریں تاکہ امتِ اسلامیہ ان خطرات سے نکلے اور مفاسد سے محفوظ ہو۔ عوام الناس کا طرزِ عمل: جہاں تک عوام الناس کا معاملہ ہے ان کے حق میں زیادہ بہتر اورضروری یہ ہے کہ وہ فتنوں میں دخل اندازی نہ کریں بلکہ اس سے مقدور بھردور رہیں، ہر شخص اپنا اپنا کام کرے، ان پر جو دینی عبادات، دنیوی واجبات اور ذمہ داریاں ہیں انھیں نبھائیں، اور اپنی زبانوں اور قلموں کو ان فتنوں میں دخل اندازی سے بچائیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات کے بارے میں اسی طرزِ عمل کی تعلیم فرمائی ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ اس طرزِ عمل کو اپنانا آدمی کی سعادت و خوشی اور توفیق کی دلیل اور اس کی نجات و سلامتی کے اسباب و ذرائع میں سے ہے۔ چنانچہ ابو داود وغیرہ میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے اللہ کی قسم ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : (( إن السعید لمن جنب الفتن، إن السعید لمن جنب الفتن، إن السعید [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۲۶۳) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۲۶۴) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۶۸) اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ امام بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’في إسنادہ محمد بن عبد الرحمن، وھو ضعیف، وأبوہ لم یسمع من ابن عمر‘‘ [3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۳۴۳) مسند أحمد (۲/ ۲۱۲) اس حدیث کو امام ابن حبان، حاکم اور ذہبی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔