کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 342
لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} [الحجرات: ۱۴] ’’اے لوگو !ہم نے تمھیں ایک ہی مرد و زن سے پیدا کیا ہے اور پھر تمھارے کنبے اور قبیلے بنا دیے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، بے شک اللہ کے نزدیک تم سب میں سے زیادہ با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا و با خبر ہے۔‘‘ تہذیبِ اسلامی اور علم: میدانِ علم میں بھی اسلام نے بڑی دلچسپی لی ہے اور نفع بخش علم کے تمام ماہرین کا بڑا مقام بیان کیا ہے کیونکہ عالم اور غیر عالم ایک جیسے نہیں ہو سکتے جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: { قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ} [الزمر: ۹] ’’کہہ دیجئے !کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں ؟ یقینا نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔‘‘ اہلِ علم کو اللہ تعالیٰ نے بڑا بلند مقام عطا فرمایا ہے، چنانچہ اس سلسلے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ } [المجادلۃ: ۱۱] ’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان لائے اور جو علم دیے گئے، درجے بلند کر دے گا اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے با خبر ہے۔‘‘ تہذیبِ اسلامی میں علم اور دین کے ما بین کوئی تنازع و جھگڑا نہیں ہے، کیونکہ صحیح علم تو ہدایت اور صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے میں وحی کا ساتھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس علم کا اثر اہلِ نظر کے دلوں پر ہوتا ہے، یہ راسخینِ علم کا مقصد اور اہلِ صدق و اخلاص کی غرض و غایت ہے اور اسی علم کی بدولت ہی علما اللہ کا صحیح تقویٰ اور خوف و خشیت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں فرمایا ہے: