کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 340
پہلا خطبہ اسلامی تہذیب اور آج کا مسلمان امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: عقل و فہم کے اضطراب، خواہشاتِ نفس کے غلبہ پا جانے، عداوت و دشمنی کے قدم جما لینے اور عدل و انصاف کے فقدان کے وقت قومیں راہِ راست سے بھٹک جاتی ہیں، اور دائیں بائیں جو احکام وفیصلے صادر کرتی ہیں ان میں ظلم و جور کا رویہ موجود ہوتا ہے، وہ بلا تفکر و تدبّر اور بلا دلیل و ثبوت کچھ بھی کہہ دیتے اور الزام لگا دیتے ہیں، جب یہ حالت ہوگی تو کھلا ظلم ہو گا جسے اہلِ عقل و دانش نظر انداز کر سکتے ہیں نہ اس کے ٹیڑھے پن پر سکوت ہی اختیار کر سکتے ہیں، تاوقتیکہ حق سرخرو نہ ہو جائے اور وعظ و نصیحت کی ذمہ داری کا احیا نہ ہو جائے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی میں اس کا حکم ہے : { فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ ،لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ۔س } [الغاشیۃ: ۲۱،۲۲] ’’نصیحت کیجیے، آپ کی ذمہ داری صرف نصیحت کرنا ہے (منانا نہیں) آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔‘‘ تہذیبِ اسلامی کا تفوق: راہِ راست سے بھٹکی ہوئی قوموں کے ان ظالمانہ احکام اور باطل دعویٰ جات میں سے ان کا ایک فیصلہ و دعویٰ جس کی کوئی دلیل نہیں، ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے اس دینِ حق دینِ اسلام، جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، کے احکام و قواعد کی بنیاد پر رو پذیر ہونے والی تہذیبِ اسلامی دوسری (مغربی) تہذیبوں سے ادنیٰ و کمتر ہے، اور دوسری تہذیبوں کو اس اسلامی تہذیب پر فوقیت حاصل ہے۔ ان لوگوں کی یہ بات در اصل اس ہدایت و نور سے آنکھیں موند لینے کا نتیجہ ہے جو حکیم و دانا اور تمام خبریں رکھنے والے پروردگار کی طرف سے آئے ہیں، اسی طرح یہ دعویٰ ان لوگوں کے عدل و انصاف کی راہ سے ہٹ جانے اور اہلِ فضل و احسان کی احسان فراموشی کا نتیجہ ہے۔ اللہ کے بندو! اسی دینِ حق دینِ اسلام کے ذریعے تو اللہ تعالیٰ نے اعلی اسلامی تہذیب و تمدّن اور قواعد و ضوابط دنیا کو عطا کیے ا ور اسی کے ذریعے اس عظیم تہذیب کے اصول و مبادیات طے فرمائے جس کے زیرِ سایہ ہی ماضی کی تمام قوموں، معاشروں، افراد اور جماعتوں نے سعادت و خوشی