کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 334
نیز بخاری و مسلم ہی میں ارشاد نبوی ہے: (( یتقارب الزمان، وینقص العمل، ویلقی الشح وتظھر الفتن، ویکثر الھرج )) [1] ’’زمانہ قریب ہو جائے گا، عمل کم اور لالچ بڑھ جائے گا، فتنے سر اٹھائیں گے اور قتل وغارت عام ہو جائے گئے۔‘‘ موجودہ زمانہ فتنوں سے بھرپور: اﷲ کے بندو! ہم ایک ایسے زمانے سے گزر رہے ہیں جس میں بے شمار فتنے رونما ہو رہے ہیں، امانت داری کم ہو گئی ہے، اﷲ تعالی کی خشیت و تقوی ماند پڑ گیا ہے، لوگ دنیا کمانے اور خواہشاتِ نفس کی تکمیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں ہیں۔ قتل وغارت اس قدر عام ہو گئی ہے کہ قاتل کو یہ معلوم نہیں ہو تا کہ اس نے قتل کیو ں کیا ہے اور مقتول یہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں قتل کر دیا گیا ہے؟ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر وی ایک صحیح حدیث میں اس بات کا پتہ دیا گیا ہے۔[2] راہ نجات: ایسے فتنے بر دوش حالات میں ہر شخص یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ ان حالات میں نجات و بچاؤ کا کیا طریقہ ہے اور ان تغیراتِ زمانہ میں ایک مومن کا کیا موقف ہونا چاہیے؟ اس کا جواب الحمد ﷲ بالکل واضح ہے کہ ہر بیماری کی دوا مو جود ہے، کسی نے اس کا علم حاصل کر لیا اور کوئی اس دوا سے نابلد رہا۔ غرض فتنوں کے اس خطرناک مرض کا علاج کئی طرح سے ممکن ہے، سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ بے شمار لوگ جن فتنوں اور جنگوں میں مبتلا ہیں ا ن سے اپنے محفوظ ہونے پر اﷲ تعالی کا بکثرت شکر ادا کریں، پھر اﷲ تعالی کی قضا و قدر سے اگر کسی مشکل میں مبتلا کر دیے جائیں تو صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ اﷲ تعالی جو چاہتا ہے و ہ لامحالہ ہو کر ہی رہے گا اور لوگ جن حالا ت میں مبتلا ہیں ان حالات کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور جن حالات سے وہ دوچار نہیں کیے گئے انھیں ان میں کوئی مبتلا نہیں کر سکتا کیونکہ ہوتا وہی ہے جو اﷲ تعالیٰ چاہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہو تا جیساکہ سورۃ الرعد میں ارشاد الٰہی ہے: [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۹۰) مسند أحمد (۵/ ۲۷۷) اس حدیث کو امام حاکم اور ابن حبان نے صحیح اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے حسن کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۷۰۴)