کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 332
فتنوں کے زمانے میں مومن کا طرز عمل امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریم حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: شریعت کا امتیازی وصف۔۔۔ توحید: اے لوگو ! شریعت اسلامیہ کی تعلیمات اور اوصاف میں سے ایک ممتاز وصف یہ دعوت ہے کہ دنیا میں صرف ایک اﷲ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اس کائنات کے رب کے فرض کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس کی اتباع کی جائے، تو پھر یہ شریعتِ اسلامیہ سراسر خیر و نور، امن و سلامتی اور فرحت و سرور کا باعث ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ} [آل عمران: ۱۹] ’’بیشک اﷲ تعالی کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔‘‘ نیز فرمان باری تعالیٰ ہے: { وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْن} [آل عمران: ۸۵] ’’اور جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو اپنایا تو وہ ا س سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ نقصان پانے وا لوں میں سے ہو گا۔‘‘ شریعت کی بنیاد۔۔۔ اتباع کتاب و سنت: شریعت اسلامیہ کی بنیاد اتباعِ کتاب و سنت پر ہے، نہ کہ خود ساختہ امور اپنانے پر۔ کسی شخص کا دین اس وقت تک دین حق نہیں ہو سکتا جب تک اس میں تمام تر تابعداری صرف اﷲ تعالی کے لیے نہ ہو، اور بہترین طریقہ و منہج صرف ا ﷲ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ و منہج ہے، اور قیامت تک اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں لا سکتا حتی کہ اﷲتعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے چیلنج کروایا اور فرمایا ہے: { قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ} [القصص: ۴۹] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۰۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۸۶)