کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 328
رویوں اور جذباتی انداز سے بالا ہو کر کیے جائیں، اور ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بنیاد انتقام کو نہ بنایا جائے کیونکہ یہ آج کے نظام وقانون والی دنیا کے لیے ایک مہلک رجحان ہے۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے اہلِ عقل و دانش کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کہیں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے خود بھی تو دہشت گردی کے راستے پر تو نہیں چل نکلے ؟ وہ احمقانہ انداز، جس کی بنیاد ہی نفرت اور رنگ و نسل کی تمیز پر ہے، لہٰذا عقل وفکر اور سوچ کو یہ راستے دکھانے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ دنیا کے دانشمندو! عدل و انصاف کی تلاش اور جذباتی و انتقامی سرکشی کے ما بین بہت ہی زیادہ فرق ہے، دہشت گردی کا علاج کرتے کرتے کہیں خود بھی دہشت گردی کے گڑھے یا اندھے کنویں میں نہ گر جائیں، ضروری ہے کہ سوچ و بچار، ٹھنڈے دل اور عقل و فہم کو بروئے کار لاکر فیصلے صادر کریں، لعنت و ملامت صرف انھیں کریں جو اس کے مستحق ہیں، اگر ایسے حادثات اور بحرانوں میں فیصلے صادر کرنے والی قوتوں اورعقل و دانش والوں نے اخلاقی جوہر کا پاس نہ کیا تو دہشت گردی کو ختم کرنا خود دہشت گردی بن جائے گا۔ عالمی سطح پر حل: لوگو! اس سلسلے میں عالمی سطح پر سچا تعاون ہونا چاہیے تا کہ حقد و نفرت کے سوتے بند کیے جا سکیں، اور ان اسباب کا علاج کیا جا سکے جو ایسے تنگ نظری و عنصریت والے نفرت زدہ کردار کا باعث بنتے ہیں، اور ایسی فضا کا خاتمہ کیا جائے جو زہریلی ہے اور جس سے ایسے امور کے جنم لینے کا خدشہ ہے جو انجام کے اعتبار سے اچھے نہیں۔ بعض عالمی ذرائع ابلاغ کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے جو عنصریت و عصبیت پھیلا رہے ہیں اور دنیا کو مہذّب و غیر مہذّب لوگوں کی دو قسموں میں بانٹنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ تقسیم صرف باطل ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن بھی ہے، ایسی عنصریت و تعصب پر مشتمل کارروائیوں کا حساب کتاب رکھنا اور ان کے ردّ عمل اور خطرات کا اندازہ کرنا ممکن نہیں رہتا، ضروری ہے کہ دلوں کو نفرت سے بھر دینے والی اور سینوں کو مکرو تعصب کا ڈیرہ بنانے والی وہ بتی کھینچ کر نکال دی جائے جو بصارت و بصیرت دونوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ اس بات کو انجام کے بارے میں غور کرنے والے اور نتائج پر گہری نظر رکھنے والے سبھی لوگ جانتے ہیں۔ لوگو! آج دنیا کے سامنے ایک حقیقی امتحان ہے جس کا تعلق عدل وانصاف کے مبادیات و