کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 327
أول من سن القتل )) [1] ’’رہتی دنیا تک جو بھی شخص مظلوم قتل کیا جائے گا اس کا گناہ بھی آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو پہنچے گا کیونکہ قتل کا آغاز اسی نے کیا تھا۔‘‘ ماضی، حال اور مستقبل میں جب بھی کہیں خون ہو گا اس قتل کا گناہ قا بیل کو بھی ہو گا، اور اس کے گناہوں کے ڈھیر بہت ہوں گے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے انسانی جان کو قتل کیا اور پہلا شخص تھا جس نے قتل کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اسلام نے انسانی خون کا بہت ہی زیادہ احترام کیا ہے، ہلاکت و بربادی ہے اس کے لیے جو قتل و غارت گری کو اپنائے، پر امن شہریوں کو ہراساں کرے، لوگوں کی املاک کو برباد کرے، انھیں گھروں، دوکانوں اور مرد و زن اور بچوں سے بھرے ہوئے بازاروں میںخون ریزی کرے۔ مسلمان جب اس جرم دہشت گردی کے خاتمے اور انسداد کے لیے عالمی کوششوں کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوئے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہے کہ نظم و ضبط قائم ہو اور مختلف تہذیبوں میں جو آویزش پیدا ہو گئی ہے اس سے دور رہا جا سکے۔ یہ ایک مناسب موقع ہے کہ حالات کا جائزہ لیا جائے، حقوقِ انسانی، آزادی اور عدل و انصاف کے قواعد و ضوابط طے کیے جائیں اور ذاتی انتقامی کارروائیوں سے بالا ہو کر ثابت شدہ حقائق کے پیشِ نظر اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گردی؟ وسعتِ ظرفی اور کشادہ نظر سے اس مسئلہ کے حل کی ضرورت ہے نہ کہ ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نئی نئی مشکلات و مسائل پیدا کر لینے کی۔ اس مسئلے کا حل یا اس مرض کا علاج بھی انتقامی سوچ، قتل و خونریزی، تباہ کاری، دینی و تہذیبی اور قبائلی تنازعات پیدا کرنے سے دور رہ کر دریافت کرنا ہو گا، نہ کہ ساری دنیا کو میدانِ جنگ بنا کر کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہ ہو گی بلکہ جرائم پر جرائم کا سلسلہ چل نکلنے کا خطرہ بڑ ھے گا۔ اس لیے یہ مسئلہ نئے سیاسی حل کا محتاج ہے نہ کہ نئی جنگوں کا، اس کے لیے ضروری ہے کہ عقل و دانش اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جائے، او ر عقلمندانہ فیصلوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ردّ عمل کے