کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 325
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ہلاکت خیز دہشت گردی بہت بری چیز ہے، اسے ختم کرنے کے لیے سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، اسی طرح اس کے اسباب کا خاتمہ کرنا بھی ضروری امر ہے، اس مسئلے سے کئی ملکوں نے بڑے بڑے نقصانات اٹھائے ہیں اور کئی معاشروں نے اس کی ہلاکتوںکو چکھا ہے۔ دہشت گرد لوگ جب بے قصور جانوں کو قتل کرتے ہیں، املاک کو تباہ کرتے اور زمین میں فساد وبگاڑ پھیلاتے ہیں تو یہ بہت ہی برے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، یہ دہشت گردی سراسر شرّ، تخریب کاری، رنج و غم کا سبب اور فساد ہی فساد ہے، دہشت گردی کو پیشہ ورانہ اختیار کر لینے والے لوگ فکری انحراف اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، اور کون ہے جو إرہاب و دہشت گردی کو جرم نہیں سمجھتا اور اسے برا نہیں جانتا اور اس سے بچنے کے لیے کوشاں نہیں ہے؟ دہشت گردی کی وسعتیں: آج کل دہشت گردی تمام معاشرتی و جغرافیائی حدود کو پھلانگ کر تمام ملکوں، تمام قبائل و اقوام اور مذاہب و ادیان کے لوگوں میں پھیل چکی ہے، دہشت گردوں کی کارروائیاں اور تو اور خود ان کی اپنی ذات کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں بلکہ ان کی اپنی روحیں اور جانیں بھی ان کارروائیوں میں کام آتی رہتی ہیں، ان کی کارروائیاں معقول و مشروع حدود سے تجاوز کر جاتی ہیں، اور مختلف ادیان کی تعلیمات اورمختلف علاقوں کے عرفِ عام، قوانین و ضوابط اور نظاموں کی حدود کو بھی پار کر جاتی ہیں۔ دہشت گردی کیا ہے ؟ دہشت گردی سے مراد ہے: کسی کو قتل کرنے، ڈرانے دھمکانے، اٹھا لے جانے، تخریب کاری کرنے، چھینا چھپٹی، غصب، امن و امان کو تہہ و بالا کرنے، خوف وہراس اور زمین میں فساد و بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ دہشت گردی میں بے قصور لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور نا حق خونریزی ہوتی ہے جس کا کوئی شرعی جواز نہیں۔ دہشت گردی کسی ملک و قوم، دین و مذہب اور زمانہ و ٹھکانہ کو نہیں مانتی، انسان کے عام جذبات اس فعل کا انکار کرتے اور اسے برا سمجھتے ہیں، اس سے او ر اس کے کارکنوں سے اپنی براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ فعل ان لوگوں کی فطرت میں پائے جانے والے شذوذ و انفرادیت اور تنہائی و انتہا پسندی کی دلیل ہے، لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنے، لوگوں کو