کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 320
وترقی کے لیے امت کے تمام افراد اور معاشرے انفرادی اور اجتماعی کوششوں میں لگ جائیں تا کہ امتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ وغیرتِ گزشتہ واپس ہو سکے اور تمام جہانوں میں اس امت کا مقام بلند ہو، اور اس کے لیے دینِ اسلام کے سوا اور شریعتِ مطہرہ کے بغیر ہمارے لیے دوسرا کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔ امت راہِ مستقیم کے بجائے کئی راستوں پر چل نکلی ہے اور فتنوں کا طوفان پھوٹ پڑا ہے، مگر اس امت پر اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے ایسے خلف مہیّا کیے ہیں جو سلف کی عظمت و بزرگی کو لوٹا سکتے ہیں اور دین کے معاملات سلجھانے اور جو چیزیں یا معالمِ شریعت مدہم پڑ چکے یا مٹ چکے ہیں انھیں تجدید و استقامت کے عمل سے گزار کر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ دائمی و عالمی نظامِ حیات: ( شریعت و حکومت اور اتحاد) وہ دعوتِ توحید و اصلاح جو ارضِ حرمین شریفین سے اس وقت اٹھی جب سلطانِ علم اور سلطانِ حکومت کا ایک انتہائی نادرۂ روزگار اتحاد و معاہدہ ہوا، وہ اللہ کی نعمت کے سوا کیا تھا ؟ اور وہ نعمتِ الہیہ صرف اہلِ جزیرہ ہی پر نہیں بلکہ وہ تو تمام کرۂ ارض کے لوگوں کے لیے عام تھی اور اس کے نتیجہ میں روز گار، امن و امان، قائدین و عوام میں تعلق، اسلامی جدو جہد، انسانی عمل، تہذیبی محل، علمی مرکز، امت کا وزن، اقوامِ عالم میں مقام و مرتبہ، ایک تاریخی موقف اور اس دہشت گردی سے بھی زیادہ طاقتور عزم جیسے ثمرات سامنے آئے۔ اللہ تعالیٰ علم وحُکم کے اس اتحاد کو اپنی رضا کے لیے خالص اور پسندیدہ بنائے اور دین و دنیا کی بھلائیوں کے لیے اسے مزید توفیق سے نوازے۔ بدعات سے اجتناب: خبردار! یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اصلاح کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی ذات کی اصلاح کریں اور اتباعِ کتاب وسنت کو حرزِ جان بنائیں، آج لوگوں نے جو بلا علمِ صریح اور بلا سندِ صحیح بدعات ایجاد کر رکھی ہیں اپنے آپ کو ان سے بچائیں۔ انھیں بدعات میں سے اس ماہِ رجب کے بارے میں بعض لوگوں کا اعتقاد بھی ہے جس کی بنا پر وہ ایسی عبادات بجا لاتے ہیں جو سلف صالحینِ امت سے مأثور و منقول نہیں ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : [1] تبیین العجب بما ورد في فضل رجب (ص: ۹)