کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 319
{وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ} [یوسف: ۲۱] ’’اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے۔‘‘ { فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ وَّاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمُ اللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ لاَ حُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ} [الشوریٰ: ۱۵] ’’پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم میں انصاف کرتا رہوں، ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے، ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا، اور پھر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ کرنے کے کام: اللہ کے بندو! اختلاطِ اوراق اور التباسِ حقائق کے سائے میں دنیا حقیقت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اور مسلمانو! تم تو اہلِ حق ہو، لہٰذا اللہ کے لیے اسلام اور اہلِ اسلام کی وہ روشن تصویر پیش کرو جو اسکا حق ہے، جبکہ چہروں سے نقاب اٹھ چکا ہے، نعرے مفلس و قلاش ہو چکے ہیں اور نظریات و سسٹمز کے عیوب کھل کر سامنے آ چکے ہیں، اسی طرح اسلام کے روشن چہرے کو افراط و تفریط اور انتہا و جفا نے بھی داغدار کیا ہوا ہے، آج دنیا اس بہترین مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے جس میں اس دینِ اسلام کے زیرِ سایہ امن وامان سے جی سکے، نہ جرائم کا ڈر ہو، نہ خوف و ہراس ہو اور نہ کوئی اور خدشہ رہے۔ یہ صرف اس شکل میں ممکن ہے کہ اسلام کو نافذ کیا جائے، اتحاد و اتفاق کے ساتھ اس سلسلے میں کام کیا جائے، اور اس نیک مقصد کے لیے دورِ حاضر کے تمام جدید آلات اور ٹیکنیک کو زیرِ استعمال لایا جائے۔ امتِ اسلامیہ کے تمام مسائل کی پیروی کی جائے، دنیا بھر میں موجود مسلم معاشروں اور غیر مسلم ملکوں میں موجود مسلم اقلیات کے حالات کی نگرانی کی جائے اور مختلف میدانوں میں تہذیبی تعمیر