کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 315
’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، یا زمین میں فساد برپا کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا۔‘‘ تعلیماتِ نبویہ: برادرانِ ایمان! اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اہلِ ایمان اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ پر امن شہریوں کو ہراساں کرنا، پرسکون لوگوں کی زندگی کو خطرات میں ڈال کر ہلا دینا، تشدّد، جبر و استبداد، تخریب کاری اور دھماکے، انسانیت کی اصلاح کا سبب لوگوں کی سعادت و خوشی کا باعث، بشریت کے لیے امن و اطمینان کا ذریعہ اور خیرو بھلائی لا نے کا طریقہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی حفاظت و نگرانی فرمائے، نبی مصطفی اور حبیبِ إلٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سن لیں، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں منہجِ اصلاح کی تخم ریزی کرتے ہوئے جنگ کی حالت میں یہ ہدایات جاری فرمائیں، اور جنگ کی حالت میں یہ تعلیمات ہیں تو امن کی حالت میں کیسی ہونگی ؟ اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا : (( اغزوا باسم اللّٰه في سبیل اللّٰه ، لا تغلوا، ولا تغدروا ولا تمثلوا، ولا تقتلوا شیخا، ولا ولیدا، ولا امرأۃ، ولا راھبا في صومعۃ )) [1] ’’اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو، مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، غداری نہ کرو، دشمن کی لاش کے کان ناک کاٹ کر اس کا مثلہ نہ کرو، بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور اپنی عبادت گاہ میں مصروف راہب کو قتل نہ کرو۔‘‘ یہ تعلیمات آج کہاں ہیں؟ ان لوگوں کو یہ کیوں یاد نہیں جو تشدد کو اپنا راستہ اور تخریب کاری کو اپنا طریقہ بنائے بیٹھے ہیں اور تغییر و اصلاح کے لیے خونریزی کو اپنائے ہوئے ہیں، اس طریقے اور منہج کے خطرات اور اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور خصوصاً غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے مستقبل اور ان کو پیش آمدہ مشکلات کا تو کچھ پوچھیں ہی نہیں۔