کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 305
شب و روز تو دو سواریاں ہیں، ان میں اچھے طریقے سے آخرت کی طرف کا سفر پورا کرو، نیک عمل اختیار کرنے میں سستی اور افراط و تفریط سے کام ہر گز نہ لو اور ان لوگوںکی طرح نہ ہو جاؤ جو نیک عمل کیے بغیر آخرت کی فوز وفلاح حاصل کرنے کی جھوٹی تمنائیں لیے بیٹھے ہیں اور لمبی امیدیں لگائے توبہ کو مؤخر کیے ہوئے ہیں، موتیں پوشیدہ ہیں اور اچانک آ دبوچتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے حلم و بردباری سے دھوکہ میں نہیں رہنا چاہیے، اللہ ڈھیل دیتا ہے نظر انداز نہیں کرتا، جنت و دوزخ تمھارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ صحیح بصیرت اور صدقِ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہیں یہی رسولِ ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ و عمل ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے پچھلے تمام گناہ معاف کر رکھے تھے۔ سیّد الاستغفار: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اسناد کے ساتھ استغفار کے جو صیغے ثابت ہیں اور جن کو اپنانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو توجہ دلائی ہے ان میں سے ایک وہ ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ کہے: (( اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ إلاَّ أنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ أنَا عَبْدُکَ، وَأنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أعُوْذُ بِکَ مِنْ شرِّ مَا صَنَعْتُ، أبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَأبُوْئُ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إلاَّ أنْتَ )) ’’اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں حسبِ استطاعت تیرے ساتھ کیے ہوئے عہد و معاہدہ پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے افعال کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، مجھے معاف کردے تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ ’’جس نے پورے یقین کے ساتھ صبح کے وقت یہ سید الاستغفار پڑھ لیا اور رات ہونے سے پہلے اسے موت آ گئی تو وہ اہلِ جنت میں سے ہو گیا، اور جس نے شام کو پورے [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۹۴۷) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۱۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۷۷) اس حدیث کو امام حاکم اور ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۶۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۸۴) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۷۱)