کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 302
جو لوگ بکثرت استغفار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اچھا سامانِ زندگی عطا کرتا ہے اور وہ بڑی ہی پاکیزہ زندگی سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور اللہ ان پر مزید اپنے فضل و کرم اور انعام و احسان بھی فرماتا ہے، جیسا کہ ارشادِ رباری تعالیٰ ہے: { وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ } [ھود: ۳] ’’ اور یہ کہ تم اپنے گناہ اپنے پروردگار سے معاف کراؤ (استغفار کرو) اور پھر اسی کی طرف متوجہ رہو (توبہ کرو) تو وہ تم کو وقتِ مقرر تک اچھا سامانِ (زندگی) دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا۔‘‘ توبہ و استغفار کی پابندی سے تکلیفیں دور اور غم ختم ہوتے ہیں، مشکلات سے نکلنے کے راستے بنتے ہیں، اور وہاں سے رزق حاصل ہوتا ہے جہاں سے بندے نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( من لزم الاستغفار جعل اللّٰه لہ من کل ھم فرجا، ومن کل ضیق مخرجا، ورزقہ من حیث لا یحتسب )) [1] ’’جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا، اللہ اسے ہر غم سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی و مشکل سے نکالتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔‘‘ یہ استغفار کے فضائل و ثمرات میں سے بعض فوائد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں واضح فرمائے ہیں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح احادیث میں بیان فرمائے ہیں۔ [1] تفسیر القرطبي (۴/ ۲۰۶) [2] جامع العلوم والحکم لابن رجب (ص: ۳۹۵)