کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 299
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والے اس کلمہ کو ایک سو مرتبہ سے زیادہ سنتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: (( رب اغفرلي، وتب علي إنک أنت التواب الرحیم )) [1] ’’اے اللہ! میری مغفرت فرما دے، اے اللہ! میری توبہ قبول فرما لے، تو بہت ہی توبہ قبول کرنے اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔‘‘ مخلص اور متقی لوگوں کے اوصاف: مخلصینِ اہلِ ایمان اور اصحابِ عزیمت کی یہی شان ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف ہی رجوع کرتے اور اسی کا آسرا مانگتے ہیں، بکثرت توبہ و استغفار بھی کرتے رہتے ہیں، یہ سب وہ خلوصِ نیت اور صدقِ دل سے کرتے ہیں، نہ تو مایوسی ان کے قریب آتی ہے اور نہ وہ کسی گناہ پر اصرار کرتے ہیں، اللہ کی خشیت ان کے دلوں میں بسی ہوتی ہے اور ان کے قدم مقامِ احسان و خلوص پر خوب راسخ ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اپنے اعمال اپنے پر ورد گار کی نگرانی میں بجا لاتے ہیں۔ { اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ، اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ }[آل عمران: ۱۶، ۱۷] ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں: اے ہمارے پرورد گار! ہم ایمان لائے، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا لے، وہ لوگ صبر کرنے والے، صادق، فرمانبردار، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت اٹھ اٹھ کر اللہ سے بخشش مانگنے والے ہیں۔‘‘ یہ عارف باللہ اور متقی لوگ ہیں جو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بکثرت نوافل اور امورِ اطاعت بھی بجا لاتے ہیں اور پھر مغفرت طلب کرنے میں بھی تاخیر نہیں کرتے کیونکہ وہ اس خدشہ کو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اعمالِ صالحہ میں کہیں کوئی کمی بیشی اور کوتاہی نہ ہو گئی ہو۔ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۹۱)