کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 298
ولا أبالي، یا ابن آدم لو بلغت ذنوبک عنان السماء، ثم استغفرتني غفرت لک، ولا أبالي، یا ابن آدم! إنک لو أتیتني بقراب الأرض خطایا، ثم لقیتني لا تشرک بي شیئا لأتیتک بقرابھا مغفرۃ )) [1] ’’اے ابنِ آدم! تو نے جب بھی مجھے پکارا اور میرے ساتھ امیدیں قائم کیں میں نے تمھارے گناہ بخش دیے، چاہے وہ کیسے اور کتنے بھی تھے، اگرچہ وہ آسمان کی بلندیوں تک بھی کیوں نہیں پہنچے ہوئے تھے، پھر تم نے میری بخشش طلب کی اور میں نے بخش دیا اور مجھے کسی کی کوئی پرواہ بھی نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تم زمین کی پہنائیوں کے برابر گناہ کر کے بھی میرے پاس آؤ اور تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں تمھیں زمین کی پہنائیوں کے برابر مغفرت سے نوازوں گا۔‘‘ مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور توبہ و استغفار: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر حکم فرمایا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوصِ نیت، مسلسل استغفار اور تقویٰ کے لحاظ سے پوری کائنات میں سب سے ارفع و اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے : { فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَمنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ}[محمد: ۱۹] ’’جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور اپنے ساتھ ہی مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی بخشش مانگیں۔‘‘ اور فی الواقع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز مسلسل مغفرت طلب کرتے ہی رہتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا ہے: (( واللّٰه ، إني لأستغفر اللّٰه ، وأتوب إلیہ في الیوم أکثر من سبعین مرۃ )) [2] ’’مجھے اللہ کی قسم ہے میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہوں۔‘‘ [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۱۶) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۴۳۴) اس حدیث کو امام ترمذی، ابن حبان اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔