کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 297
(( کل بني آدم خطاء، وخیر الخطائین التوابون )) [1] ’’تمام بنی آدم خطا کار ہیں، اور خطا کاروں میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو خطا کر بیٹھیں تو فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔‘‘ رحمتِ الٰہی کی وسعتیں: اللہ کے فضل و کرم کی وسعتوں کا یہ عالم ہے کہ وہ رات کو اپنا دستِ رحمت درازکرتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو دستِ رحمت دراز کرتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور وہی تمام گناہ بخشنے والا ہے، بندے کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو چاہے اس کے گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں اور خطائیں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: { قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ} [الحجر: ۵۶] ’’گمراہوں کے سوا اللہ کی رحمت سے کوئی نا امید نہیں ہوتا۔‘‘ سنن ترمذی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (( یا ابن آدم! إنک ما دعوتني ورجوتني غفرت لک علی ما کان منک، [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۴۰) مسند أحمد (۵/ ۱۶۷) امام ترمذی اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۹۴۸)