کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 291
کرنا کسی عقلمند کے لیے ٹھیک ہی نہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ اس کا دل اس کی خواہش کرے، نہ وہ اس طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے اورنہ اپنی سعی وکوشش کا ادھر رخ موڑے، اور نہ ہمت ہی اس طرف قدم اٹھائے، مثلا: کوئی شخص برائیوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنا چاہے، حرام امور جنھیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے اور ان کے ارتکاب سے اور اس کے گڑھے میں گرنے سے منع کیا ہے ان میں واقع ہونا چاہے، یا پھر کوئی شخص اس آدمی کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے جسے اللہ نے اپنی نعمتوں اور خیرات و برکات سے نواز رکھا ہے، اور یہ چاہے کہ ہاتھ ہلائے بغیر یہ ساری نعمتیں اس سے چھن جائیں اور میر ی ہو جائیں تو یہ محض حسد و ظلم اور عدوان و زیادتی ہے۔ منہاجِ شریعت اور انسانی فطرت: یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت فرمائی اور عظیم احسان کرتے ہوئے انھیں دینِ اسلام کے وہ مناہج و شرائع عطا فرمائے کہ جن میں راہِ راست پر چلنے والوں کے لیے سنگِ میل نصب کر دیے اور ان کی نظریں صراطِ مستقیم اور راہِ اعتدال کی طرف لگا دیں، اور ان کے لیے اعلیٰ خصال اور عمدہ اخلاق و عادات واضح کر دیں تا کہ وہ ذلیل حرکات وافعال اور ممنوع اعمال کے ارتکاب سے اپنا دامن بچا سکیں۔ اس ذات بابرکات نے امتِ اسلامیہ کے افراد میں اجتماعی امن و امان کو عام کرنے کے لیے ان میں سے ہر کسی کے لیے ایسے مواقع مہیّا فرمائے جو اس امن کے ضامن ہیں، اور اس میں ان کی جسمانی ساخت، قدرت و استطاعت اور صلاحیت و قابلیت پر بھی پوری نظر رکھی جن میں لوگ مختلف درجات کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر عقلمند کی استطاعت میں ہے کہ وہ اس بات کا یقین رکھے کہ وہ امور جن کے پیچھے لگنا مشروع ہی نہیں، ان میں اپنی سعی و صلاحیت صرف کرنا نفس کو سخت اذیّت پہنچا نا ہے کیونکہ اس طرح زندگی کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے، اللہ کی نعمتوں سے لا پرواہی اور نعمتیں عطا کرنے والے کی ناشکری کا پہلو نکلتا ہے، نیز آگے چل کر تمام شرور اور بلائیں اسی کا نتیجہ ہیں۔ ایسے امور کا ارتکاب اس پیاری زندگی اور قیمتی وقت کو محض ان خواہشات و تمناؤں اور خواب وخیال میں ضائع کرنے کے مترادف ہے، ان سے حاصل کچھ نہیں ہوتا، جیسا کہ یہ بات اہلِ عقل ودانش سے پوشیدہ نہیں ہے۔