کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 289
کے معاملے میں تواضع اختیار کرنا، کیونکہ یہ تواضع دین کی مدد و نصرت کو ترک کرنے، دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے سے ہاتھ روکنے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے رک جانے، باطل کے سامنے جھک جانے اور ظالم و مظلوم کی مدد و نصرت سے باز کرنے کا باعث ہو گی، اور ایسا شخص نہ تو نیکی کو جانتا ہے اور نہ برائی پر نکیر کر سکتا ہے۔ ب۔ اسی طرح مذموم و ناپسندیدہ اور غیر مطلوب تواضع یہ بھی ہے کہ آدمی دولتِ دنیا کے مالک، جاہ و منزلت اور حسب ونسب والوں کے سامنے تواضع اور عاجزی و انکساری اختیار کرے تاکہ وہ اس کے مال و دولت سے کچھ پا سکے، یہ عاجزی و فروتنی یا تواضع اس لیے مذموم ہے کہ ایسا شخص دنیا کی چمک دمک کے سامنے ہتھیار ڈال بیٹھتا ہے اور اس کے فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تواضع اعلیٰ ترین اخلاقی صفت اور عظیم عملِ صالح ہے، بلکہ یہ تمام اخلاقیات کی بنیاد اور ان کی جامع ہے بلکہ کوئی بھی اسلامی اخلاق ایسا نہیں کہ جس میں تواضع کا کچھ نہ کچھ حصہ نہ ہو، اسی سے کبر و نخوت اور غرور زائل ہوتا ہے، شرحِ صدر ملتا ہے، ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، قسوت و سنگدلی اور انانیت و خود غرضی ختم ہوتی ہے، اور حبِ ذات و خود پسندی اور ایسی ہی کئی دیگر اخلاقی و معاشرتی بلکہ دینی امراض اور برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔