کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 287
تواضع کی اقسام: تواضع ایک عظیم الشان اور بہت بڑا وصف و عمل ہے۔ اہلِ علم نے تواضع کے تمام متعلقات کو واضح کرنے کے لیے خوب خوب لکھا ہے، اور شرعی دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ انھوں نے تواضع کی دو قسمیں بتائی ہیں : ۱۔ تواضع محمود و مطلوب۔ ۲۔ تواضع مذموم و غیر مطلوب۔ ۱۔ تواضع محمود و مطلوب کی شکلیں: أ۔ محمود ومطلوب اور پسندیدہ تواضع یہ ہے کہ آدمی اللہ کے بندوں پر دست درازی، ان کے سامنے تکبر و تعلی اور انھیں حقیر و کمتر سمجھنا ترک کر دے، اگرچہ ان میں سے کسی سے کبھی کبھی کوئی غلطی بھی سرزد کیوں نہ ہوتی ہو۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( ما زاد اللّٰه عبدا بعفو إلا عزا )) [1] ’’دوسرے کے ساتھ عفو و در گزر اور معافی تلافی کا معاملہ کرنے والے بندے کی عزت و شرف میں اللہ تعالیٰ اضافہ کرتا رہتا ہے۔‘‘ ب۔ محمود و مطلوب اور پسندیدہ تواضع کی دوسری شکل یہ ہے کہ دینِ إسلام اور شریعت إلہیہ کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کیے رکھے اور دینی احکام و معاملات کو عقل و رائے اور خواہشِ نفس کی بنیاد پر ٹھکرائے اور نہ کسی صحیح دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرے اور نہ اس میں مَین میخ نکالنے میں کوشاں ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو کھلے دل سے قبول کرے اور اللہ کی اس طرح عبادت کرے جس طرح عبادت کرنے کا اس نے حکم فرمایا ہے، اور اس میں خلوص و للّٰہیت کار فرما ہو، کسی عادت ورسم کا کوئی دخل نہ ہو، اور یہ کہ اپنے اس عمل صالح کی وجہ سے اللہ پر اپنا کوئی حق نہ جتانے لگے، بلکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ اللہ کی رحمت کا امید وار اور اسکے عذ۱ب سے خوف زدہ رہے اور اس بات کا بھی یقین رکھے کہ کوئی بھی شخص اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، بلکہ صرف اللہ کی رحمت کے سہارے ہی جنت ملے گی۔ [1] مسند أحمد (۲/ ۲۳۱) سنن ترمذی ، رقم الحدیث (2481) اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن اور امام حاکم و البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے [2] طبقات ابن سعد (۱/ ۳۸۱) اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن اسی معنی میں ایک دوسری صحیح حدیث مروی ہے۔ دیکھیں: مسند أحمد (۲/ ۲۳۱) صحیح ابن حبان، رقم الحدیث (۲۱۳۷)