کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 283
اور جب نشہ ٹوٹنے لگتا ہے تو پھر پیتا ہے اور پیتے پیتے وہ ایسا دھت رہنے لگتا ہے کہ اب وہ پیے یا نہ پیے اس کی حالتِ نشہ وغیر نشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔ غرض سبب چاہے کوئی بھی ہو تواضع کا دامن چھوڑنا رذالت و کمینگی کی نشانی، گھٹیا خصلت اور بد ترین حرکت ہے، کیونکہ خود پسندی و تکبر میں مبتلا شخص کی آنکھ ہمیشہ تاریک گوشے ہی سے دیکھتی ہے، لہٰذا فضائل تو اسے نظر ہی نہیں آتے، ایسے آدمی کا ایمان اتنی ہی تیزی سے خارج ہو جاتا ہے جتنی تیزی کے ساتھ ٹوٹے ہوئے برتن سے پانی بہہ جاتا ہے۔ سلف صالحین کے چند نمونے: تعجب ہے ایسے لوگوں پر، وہ پتہ نہیں اپنے أسلافِ امت کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے انھیں اپنی نگاہوں کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟ ۱۔ ہم سب کے امام و راہنما، أولادِ آدم علیہ السلام کے سردارِ أعلیٰ، حسب و نسب اور عظیم شان و شوکت والے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھ لیں، ایک معمولی چٹائی پر سوتے تھے، أذیتیں دینے والوں کے ساتھ ہنستے مسکراتے تھے، ایک عورت، جو کسی کی شکایت کر رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ سرِ راہ کھڑے سنتے رہے، اپنے صحابہ کے ساتھ ایک برتن سے دودھ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں دودھ پینے والے تھے، اہلِ صفہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا کرتے تھے، اور پھر جب فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو انتہائی تواضع، عاجزی اور انکساری کے ساتھ داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں کے درمیان بازار میں چلتے پھرتے تھے، جو دوسرے لوگ کھاتے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھاتے، جو لوگ پیتے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیتے تھے، میرے ما ں باپ آپ پر فدا ہوں۔ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ ۲۔ اسی طرح خلیفۂ راشد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت و سوانح پر نظر ڈال کر دیکھیں تو وہ اپنے محلے والوں کی بکریوں کا دودھ دوہتے نظر آتے ہیں، جب ان کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کر کے انھیں خلیفہ و حکمران بنا لیا تو ایک کنیز لڑکی نے کہا: اب وہ ہماری بکریوں کا دودھ نہیں دوئیں گے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ بات سن لی اور فرمایا : [1] تاریخ الطبري (۲/ ۳۵۴) [2] الاعتقاد للبیھقي (ص: ۳۶۰) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۰۱) شعب الإیمان (۸۱۹۵) اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔