کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 276
تیسرا خطبہ تواضع اور انکساری امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریم حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: نئی ایجادات: دورِ حاضر میں تہذیبِ نو نے معاشرے کو جو نِت نئی ایجادات عطا کی ہیں ان میں سے بعض چیزیں تو بڑی واضح صورت میں سامنے آئی ہیں، جنھوں نے زمین کے اکثر حصے کی حاجات و ضروریات کو پورا کیا ہے، لیکن ان میں سے بعض آلات و أشیا ایسی ہیں کہ وہ ایسا مادی طوفان بن کر ابھر ی ہیں جو اس تہذیبِ جدید کے آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے نکلنے والے سیال لاوے کی شکل میں اپنے ساتھ بے شمار أخلاقِ فاضلہ اور اخلاقی قدروں کو بھی بہائے اور جلائے جا رہی ہیں۔ اس زندگی کی نئی نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا رجحان ایسا بھی نہیں ہو جانا چاہیے کہ وہ اسلام کے مبنی برشرافت أصول و مبادی کو اپنانے کے راستے میں حائل ہو جائے، وہ اصول و مبادی جن کی اسلام نے صحیح معنوں میں رعایت و نگہداشت کی ہے بلکہ جن کا مطالبہ کیا اور جن کی طرف ہر شکل میں دعوت دی ہے، خواہ لوگوں کی مادی حالت کتنی بھی وسعت اختیار کر جائے یا کتنی ہی تنگ کیوں نہ ہو جائے۔ امتِ اسلامیہ کی حالت: آج امتِ اسلامیہ انتہائی تکلیف دہ حالات سے گزر رہی ہے، اس کی کئی روحانی موروثی قدریں دم توڑ رہی ہیں۔ مسلمانوں کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ بعض لوگ تو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جیسے وہ ہمیشہ ہی اسی دنیا میں رہیں گے اور گردشِ شب وروز کی چکی کے دو پاٹوں میں کبھی بھی پسنے والے نہیں ہیں۔ اس نظریہ نے حقد و بغض سے بھرے سینوں اور کاٹ دار زہریلی زبانوں کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں کتنے ہی شریفانہ اخلاق و کردار اور قدریں دم توڑ رہی ہیں، حتی کہ ایسے لوگ جانتے ہی نہیں کہ زہدکیا ہے؟ رحم دلی اور صلہ رحمی کسے کہتے ہیں؟ تواضع اور انکساری اور نرمی کن چیزوں کے نام ہیں؟ جرمِ ضعیفی کی سزا: بعض لوگوں کے رہن سہن کا انداز اور دوسرے لوگوں سے تعامل و لین دین کا رنگ ڈھنگ