کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 271
تربیت کا معنی ہی اللہ کے حکم سے مردانِ میدان پیدا کرنا، عقلوں کو صیقل کرنا، کر دار و عمل کی صلاحیتوں کو جلا دینا اور تمام علوم و معارف کے أغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لائق بنانا ہے، تاکہ انسان اس زندگی میں کامیابی سے گزر کر سکے اور اس حیات دنیوی کو اس کے پاکیزہ أغراض و مقاصد اور اعلیٰ اہداف کے مطابق بسر کر سکے۔ تعلیم و تربیت مسلمان کے لیے إصلاحِ عقیدہ و عبادت اور إصلاحِ أخلاق کا ایک عہد ہے، تربیت در أصل زندگی کے تمام شعبوں میں اصلاحات کے إجرا کی سعی کا دوسرا نام ہے تاکہ دنیا وآخرت میں سعادت و خوشحالی کا حصول ممکن ہو۔ سعادت و خوشحالی کے بارے میں او ر اسکی تفسیر و تشریح کے بارے میں چاہے کچھ بھی کہیں اس کے یقینی مفہوم و مدلول کا إحاطہ ممکن نہیں، البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تربیت وتعلیم سے امت اپنی ان أخلاقی و فطری قدروں کا تحفظ کرتی ہے جن پر اس کی زندگی کا دارو مدار ہے، اور یہ اس امت کی بقا کے لیے ایک جہاد ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ان قدروں کو پوری امانتداری سے منتقل کرنے کی ذمہ داری ہے۔ خیر وشر میں تفریق: ہم مسلمانوں کے یہاں کفر و ایمان، دین و زندیقیت، شرع کی پابندی و إباحیت اور حلال و حرام میں فرق بہت واضح ہے، اور ان میں سے ہر دو کے درمیان صریح خطوط موجود ہیں جو ان میں خیر کو شر سے ممتاز کرتی ہیں، جبکہ دوسری تمام غیر مسلم أقوام کے عقائد بڑے مبہم و غیر واضح ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے : { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ} [آل عمران: ۱۱۰] ’’ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہو، تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوںسے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ تدوینِ جدید کی ضرورت : مسلمانو! اور ماہرینِ تعلیم و تربیت! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسلامی ممالک میں تعلیم و تربیت کے نظام کو ان کے قالب میں ڈھالیں اور تمام متداول و مروّج علوم و معارف کو اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ازسرِ نو مدوّن کریں اور سائنسی نیز تمام دیگر علوم میں ایمان باللہ اور