کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 270
کسی مدرسہ میں کوئی طریقہ اور کسی میں کوئی دوسرا نظام، کہیں کوئی آئیڈیا اور کہیں کوئی قانون۔ فاضل حضرات! یہ تعلیم و تربیت کوئی مالِ تجارت نہیں کہ جس کی در آمد و بر آمد کی جاسکے بلکہ یہ وہ لباس ہے جو امت کے جسم کے برابر تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کی حقیقت اور اس کے خد و خال کا عکّاس ہو یعنی باطنی حقیقت کو آشکارا کر ے اور ظاہری خد وخال کی عکّاسی کرے ۔ تعلیم و تربیت امت کے ان أغراض و مقاصد کا نمونہ ہوتی ہے جن کی تکمیل کے لیے وہ جیتی ہے اور جن کی خاطر وہ مرتی ہے، وہ امت کے دلوں میں راسخ و جا گزیں عقیدہ کی عکّاس ہوتی ہے، وہ اس زبان کی عکّاس و امین ہوتی ہے جس سے اس امت کی تہذیب و ثقافت کا تانا با نا تیار ہوتا ہے، وہ اس کے آئیڈیل کا نمونہ ہوتی ہے جس کے پانے کے لیے وہ کوشاں رہتی ہے اور تعلیم ہی اس تاریخ کی محافظ و امین ہوتی ہے جو اس امت کا سرمایۂ افتخار ہے ۔ امتِ اسلامیہ ایسے نظامِ تعلیم و تربیت کی محتاج ہے جو اس کی فطرت و مزاج کے مطابق ہو اور اس کے عقیدہ و شریعت اور روحِ جہاد کا ساتھ دے سکے تا کہ وہ اس امت کی عظمتِ رفتہ اور عزت و شانِ گزشتہ کو واپس لوٹا سکے ۔ اس امت کو ایسی تعلیم وتربیت کی ضرورت ہے جس پر ایک مسلمان کی اول تا آخر زندگی قائم ہو سکے، جو اس مسلم معاشرے کے تمام طبقات کو شامل ہو اور اس کے تمام اچھے برے حالات میں اس کا ساتھ دے سکے ۔ ایسی تعلیم وتربیت جو انسان کی عمر کے تمام ادوار اور اس کے سالہا سال کا ساتھ دے اور اس کے (مراحلِ تعلیم ) نرسری کلاسز سے لے کر أعلی تعلیم تک کے تمام مراحل انسان کی عمر کے ساتھ چلیں، اس میں تبدیلی ہو تو صرف عملی اصلاح و پا کیزگی میں اضافے، عظمتِ رفتہ کو واپس لانے اور عزت و شرف کے تحفظ کو مزید یقینی کرنے کے لیے ہو ۔ امتِ اسلامیہ کو ایسی اسلامی تربیت کی ضرورت ہے جو دلوں کی اصلاح کا باعث ہو، نفوس کی بیماریوں اور زخموں کے لیے دوا و مرہم کا کام دے اور عقلوں کو جلا بخشے، أفرادِ أمت میں صلاحیتوں کی کمی بیشی اور فرق کا اعتراف کرے، اربابِ عقل و دانش، أصحابِ اہلیّت اور اﷲ کی عطاکردہ صلاحیتوں کے مالک لوگوں کا مقام و احترام سکھلائے، یقینا ہر شخص کے لیے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔