کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 256
انھی لوگوں کے سے اخلاق و کردار کو اپنانے جا رہی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان اہلِ باطل اور ہوس پرستوں کی اطاعت سے اپنے بندوں کو روکا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا} [الکھف: ۲۸] ’’ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔‘‘ والدین اور مسئولین کی ذمہ داریاں: یہ حالات شومئ قسمت اور بلاء و مصیبت ہیں جن سے امتِ اسلامیہ دو چار ہے، اگر مصلحینِ امت اور دینِ اسلام پر غیرت کھانے والے ان حالات کا تدارک کرنے کیلئے نہ اٹھے، علماء اسلام، دعا ۃ و مبلغین، مفکرینِ اسلام، اہل قلم و قرطاس، ماہرینِ تعلیم و تربیت اور بلادِ اسلامیہ کے ذرائع ابلاغ و اطلاعات کے مسئولین نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی اور اپنی تمام تر قوتوں کو یکجا کر کے نوجوان نسل کی اصلاح کے لیے تمام مفیدذرائع سے استفادہ نہ کیا اور ان کی اخلاقی تربیت و تہذیب اور کردار و عمل کی اصلاح نہ کی، برائی و شر پھیلانے والوں اور خواہشات و ہوس پرستوں کے سامنے بند ھ نہ باندھا تو معاملہ اور بگڑ جائے گا اور وقت ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے جگر گوشوں کی نگرانی کریں، دینی آداب اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت کریں، برے لوگوں اور شرّ پسند لڑکوں کی صحبت سے انھیں بچائیں اور انکے مستقبل کو سنوارنے اور سعادت و خوشی کی ضمانت کے طور پر تمام وسائلِ شرّسے انھیں دور رکھیں، اللہ نے اولاد کے سلسلے میں والدین پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اسے نبھائیں، یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور عظیم أمانت ہے جو اللہ نے والدین کے سر ڈالی ہے، لہٰذا انھیں چاہیے کہ اس سے صحیح طور پر سبکدوش ہوں، اس کی انجام دہی کا حق ادا کریں اور اس کا حقیقی طور پر اہتمام کریں تا کہ اللہ تعالی کے اس ارشاد کی تعمیل ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ