کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 253
کبھی اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، پورے خلوص و وفا کے ساتھ اس کے حقوقِ صحبت ادا کیے جائیں، اس کی عزت و احترام میں کوئی کمی نہ کی جائے، اس کی خدمت میں شریک ہونا چاہیے، اور اگر وہ کسی مشکل میں مبتلا ہو تو اس کے ساتھ ہمدردی و غمگساری کرنی چاہیے، تنگی ترشی میں اس کی مدد کرنی چاہیے، اس سے کوئی کمی بیشی ہو جائے تو نظر انداز کر دینا چاہیے، اور اس کی بھول چوک سے چشم پوشی کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی انسان سے ان بشری لغزشوں کا صادر ہونا کوئی انہونی بات نہیں اور نہ ان کوتاہیوں کا صدور کوئی نا ممکن امر ہے، اور کسی کی فضیلت کے لیے یہی کیا کم ہے کہ اس کے عیوب وغیرہ شمار کیے جاسکیں؟! صحبتِ طالح: اپنے دوستوں کے لیے بد ترین ساتھی اور اپنے ساتھیوں پر انتہائی برے اثرات ڈالنے والا شخص وہ ہے جو دینی قدروں کے لحاظ سے انتہائی گیا گزرا ہو، اخلاقی اعتبار سے انتہائی پتلی حالت والا ہو، خباثتِ باطن عیاں، اور برے ضمیر کا مالک ہو، جس کی سیرت و کردار کسی کو پسند نہ ہو، جسے اس کے سوا کوئی فکر نہ ہو کہ وہ اپنی ہوائے نفس اور ہوسِ دل کیسے پوری کرے؟ نفسانی خواہشات اور دلی تمناؤں کو پورا کرنے کے لیے اسے اپنا دین اور مروت و مردانگی بھی داؤ پر لگانی پڑے تو وہ پرواہ کرنے والا نہ ہو، بلکہ ایسے لوگوں میں سے بعض کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک دین کی کوئی اہمیت اور مروت و مردانگی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی، اور نہ وہ دوستی کے کسی حق کو پہنچانتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ وہ دوست ہیں جو اپنے ساتھیوں کے لیے بھی شقا وت و بد بختی کا باعث ہوتے ہیں، کیونکہ یہ اپنے دوستوں کو بھی اپنے شر میں مبتلا کر دیتے ہیں، انھیں ذکرِ الٰہی سے روکتے ہیں، اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری سے باز رکھتے ہیں، اخلاقی قدروں سے دور اور مروّت و مردانگی سے نا آشنا کر دیتے ہیں، سوقیانہ حرکات اور فحش کلامی و بد زبانی کا عادی بنا دیتے ہیں، فسق وفجور میں غلطاں و پیچاں کر دیتے ہیں، لہو ولعب یا کھیل تماشے میں لگا دیتے ہیں جس سے وہ اپنے قیمتی اوقات کو لا یعنی، فضول اور بے فائدہ امور میں برباد کرتے رہتے ہیں اور اپنے مال و زر کو حرام و ممنوع امور کی بھٹی میں جھونکتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے بندو! ان لوگوں کے حال پر غور کرو جو شراب نوشی اور دیگر منشیات کے رسیا ہوچکے ہیں، فحاشی و منکرات اور بد کاریوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں، سود و رشوت ستانی جیسے حرام و خبیث ذرائع سے