کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 252
’’نیک دوست اور برے دوست کی مثال خوشبو بیچنے والے عطار اور بھٹی پھونکنے والے لوہار کی سی ہے، مسک و کستوری بیچنے والا یا تو آپ کو ہدیہ میں خوشبو لگا دے گا یا آپ خود اس سے خرید کر عطر لگا لیں گے، یا کم از کم اسکے پاس بیٹھنے سے آپ خوشبو ضرور سونگھ سکیں گے، جبکہ بھٹی پھونکنے والے کے پاس بیٹھنے سے خدشہ ہے کہ کوئی چنگاری آپ کے دامن کو نہ جلا دے یا پھر کم از کم اس کے پاس بیٹھنے سے چار و ناچار بدبو سے مشامِ جان کو تو تنگ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ امام ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں ایسے شخص کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت آئی ہے جس سے دین یا دنیا کا کوئی نقصان ہوتا ہو یا کوئی أذیت پہنچتی ہو، اور ایسے آدمی کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے جس سے دینی یا دنیوی کسی بھی اعتبار سے کوئی فائدہ پہنچتا ہو۔‘‘[1] صحبتِ صالح: صحبتِ صالح ترا صالح کند وصحبتِ طالح ترا طالح کند لہٰذا عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی صرف اس شخص کی صحبت اختیار کرے جو دین و دنیا میں اس کے لیے نفع بخش ہو، اور کسی کا اس دوست سے زیادہ نفع بخش دوست دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جو صاحبِ تقوی و ورع، با أدب و با مروت، عقلمند اور صاحبِ اخلاقِ عالیہ ہو، اخلاقِ کریمانہ اور أوصافِ جمیلہ کا مالک ہو، غیرت مند اور با ضمیر ہو، اور اگر کوئی ساتھی صاحبِ علم و ادب اور فقہ و حکمت میں مہارت رکھنے والا ہو تو پھر اس کا کوئی جوڑ ہی نہیں، یہ سب صفاتِ کمال ہیں۔ اگر کسی میں یہ پائی جاتی ہیں تو اس کا دوست بھی سعادت و خوشی پائے گا کیونکہ ایسے مخلص ساتھی خلوصِ دل سے محبت کرتے ہیں اور ان کی طرف سے کسی قسم کے دھوکے یا دوستانہ جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا، اگر کسی کو ایسا ساتھی میسر آجائے جو اس قسم کے اخلاق و عادات اور آداب و کردار سے مزین ہو تو وہ شخص اچھے نصیب والا اور ایک سعادت مند انسان ہے، اسے ایسا ساتھی اچھی طرح تھام کر رکھنا چاہیے اور