کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 247
ہاتھوں سے تیار کی گئی صنعتوں وغیرہ کے نتیجے میں وجود میں آ ئی ہے، یہ واجب وضروری احتیاط سے کام نہ لینے ہی کا کڑوا پھل ہے، نصیحت و خیر خواہی کرنے والوں سے منہ موڑنے، غور وفکر نہ کرنے اور تیز پروڈکشن یا مصنوعات کی جلد تیاری، مال و زر کی چمک دھمک اور زیادہ کمائی کے لالچ نے یہ ماحولیاتی برّی، بحری اور فضائی آلودگی پیدا کی ہے۔ سارے فسا د کا واحد علاج: اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں کہ زمین پر واقع ہونے والا یہ سارا فساد و بگاڑ خود انسان کے اپنے ہاتھوں کے ذریعے کیے دھرے کا نتیجہ اور اس کی اپنی بد اعمالیوں کا پھل ہے کیونکہ اس حقیقت کو تو خالقِ کون ومکاں نے بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: { ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } [الروم: ۴۱] ’’خشکی و تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔‘‘ اور اس میں بھی کسی عقلمند کے لیے شک وشبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ اس سارے فساد کا علاج بھی ا نسان ہی کے ہاتھوں ممکن ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} [الرعد: ۱۱] ’’ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو آپ نہ بدلیں۔‘‘ اور یہ اس وقت تک ہر گز ممکن نہیں جب تک یہ سب اپنے رب کی طرف تائب نہ ہوں، اور جب تک اسے ہی اپنا آخری سہارا قرار نہ دیں اور اس کی رضا جوئی میں نہ لگ جائیں، وہ اس کی حقیقی عبادت میں دل نہ لگا لیں اور اس کے سامنے سر تسلیمِ خم نہ کر دیں، اسکا حقِ عبودیت و بندگی اسی اکیلے کو واپس نہ دے دیں، اسی کی شریعت کے مطابق سارے فیصلے نہ کریں، اس کے فیصلوں پر دل و جان سے راضی اور مکمل تسلیم و رضا کے جذبے سے پوری طرح ان پر خوش نہ ہو جائیں اور ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی شک و تردد، وہم و تذبذب اور نفاق و دو رخی نہ رہے۔ اللہ کی ذات پر اس قسم کا ایمان اور اس کی شریعت کو اس انداز سے اپنانے کے ساتھ ساتھ ہی اللہ تعالی نے قوت کے جواسباب، ترقی کے جو ذرائع اور خوشحالی کے جو عوامل زمین کے کونے کونے میں ہمارے لیے بکھیر رکھے ہیں ان کو