کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 245
اور تحت الثریٰ کی اتھاہ گہرائیوں اور انتہائی گہرے کھڈوں میں جا پڑا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : { حُنَفَآئَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ} [الحج: ۳۱] ’’ اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے وہ ایسے ہے گویا وہ آسمان سے گر پڑا، اب یاتو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے کسی دور دراز مقام پر لے جا پھینکے گی۔‘‘ اس زمین پر اس سے بڑا فساد اور کیا ہو گا کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے جو نہ اپنے نفع ونقصان کا مالک ہے نہ موت وحیات ہی اسکے اختیار میں ہے، اور نہ وہ مر کر جی اٹھنے پر قادر ہے۔ ۲۔ فساد فی الأرض کی دوسری شکل: کبیرہ گناہ زمین میں فساد و بگاڑ پیدا کرنے کی مختلف شکلوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان گناہوں کے گڑھے میں گر جائے اور کبائر کی نجاستوں سے اپنے دامن کو ملوّث و لت پت کر لے۔ ان سیاہ کاریوں اور گناہوں میں سے بھی انتہائی ہلاکت خیز اور تباہ کن وہ کبیرہ گناہ ہیں جن کے ارتکاب پر اللہ تعالی نے سخت سزاؤں اور درد ناک عذاب کی وعیدیں سنائی ہیں، اور جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روشن وضاحتیں صحیح احادیث میں موجود ہیں، مثلاً جادو ٹونے کرنا، کسی کو ناحق قتل کر دینا، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، میدانِ جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، بھولی بھالی پاکدامن و پاک باز مومن عورتوں پر تہمت لگانا اور بہتان باندھنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی دینا، زنا کاری، شراب نوشی، منشیات کا استعمال، چوری، قطع رحمی، اور راہ زنی وغیرہ ایسے مہلک گناہ جن کے ارتکاب سے انسان خود اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے، انھی کے نتیجے میں اس کے ایمان میں نقص واقع ہو جاتا ہے اور وہ شیطان کے ہاتھوں میں ایک چابی والے کھلونے کی طرح ہو جاتا ہے، وہ اسے شرّ وفساد اور برائیوں کے جس اڈے کی طرف چاہتا ہے ہانک کر لے جاتا ہے، یہ گناہ انسان کی بصارت کو روشن نشانیوں کے دیکھنے کے لائق نہیں چھوڑتے اور شیطان ہدایت سے اس کی بصیرت کو ہٹا دیتا ہے، اس کی ایسی بد عملی کو اس کے سامنے بنا سنوار کر پیش کرتا ہے اور اسے گمراہی میں دھکیل دیتا ہے، اور اس کے اخلاقی اور عملی ٹیڑھے پن کو بھی اس کی نظروں میں حسین و جمیل بنا بنا کر دکھاتا